rki.news
تحریر۔فخرالزمان سرحدی
اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والا عظیم شاعر٬ادیب اور قلم کار ”اعتبار ساجد“جو راہِ محبت کا مسافر تھا۔سوشل میڈیا پر ان کے بیٹے(حسن اعتبار۔03035072126)کی طرف سے ایک افسردہ پیغام دیا گیا کہ”اعتبارساجد“اس دنیا میں نہیں رہے۔تو ادب کی دنیا میں ایک کمی کا احساس غالب ہوا۔کالم تو کسی اور عنوان پر تحریر کرنا تھا لیکن اعتبار ساجد کی جداٸی اور قلمی خدمات کے پیش نظر انہی کا انتخاب کیا ہے۔باتیں میری کیا اور الفاظ میرے کیا۔بات فقط محبت کی ہے۔ایک معلم سے لے کر شاعر٬ادیب٬کالم نگار٬نظم اور نثر میں نام پیدا کرنے والے اعتبار ساجد کے لیے کس انداز سے کچھ تحریر کروں۔ایک محبت کا اظہار اور مرحوم کی قلمی خدمات کا اعتراف چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ عرض خدمت ہیں۔دستیاب مواد کےمطابق ”
سید اعتبار ساجد یکم جولائی 1948ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم حاصل کرکے آپ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی (بلوچستان ) میں لکچرر رہے ۔ بعد ازاں اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ رہے۔ شاعری کے علاوہ نثر میں بھی آپ کی کتابیں ہیں۔ آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں ’دستک بند کواڑوں پر‘، ’آمد‘، ’وہی ایک زخم گلاب سا‘، ’مجھے کوئی شام ادھاردو‘ (شعری مجموعے)، ’راجو کی سرگزشت‘، ’آدم پور کا راجا‘، ’پھول سی اک شہزادی‘، ’مٹی کی اشرفیاں‘ بچوں کے لیے“ بحوالہ(salamurdu.com)
محبتوں٬چاہتوں٬خوشبوٶں کا شاعر ۔اعتبار ساجد (صدام ساگر٬کالم نگار روزنامہ پاکستان 10مئی 2023)
اور بھی تحریریں معروف شاعر ٬ادیب اور کالم نگار ”اعتبار ساجد“کی خدمات کے اعتراف میں ملتی ہیں۔ایک غزل کس قدر ان کے دل کی آواز اور سماج کی ترجمان ہے۔اعتبار ساجد
کبھی تونے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ھے تو کیوں ھے
تجھے پا کے بھی مرادل جو اداس ھے تو کیوں ھے
مجھے کیوں عزیز تر ھے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ھوائے شام ہجراں مجھے راس ھے تو کیوں ھے
تجھے کھو کے سوچتا ھون مرے دامن طلب میں
کوئی خواب ھے تو کیوں ھے کوئی آس ھے تو کیوں ھے
میں اجڑ کے بھی ھوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ھے میرا
یہ یقین ھے تو کیوں ھے یہ قیاس ہے تو کیوں ہے
مرے تن برہنہ دشمن،تو بچھڑ کے بھی ہے میرا
کہ مرے بدن پہ سالم،یہ لباس ہے تو کیوں ہے
کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر
بہت اپنی شاعری میں جو اداس ہے تو کیوں ہے
ترا کس نے دل بجھایا ،میرے اعتبار ساجد
یہ چراغ ہجر اب تک،ترے پاس ہے تو کیوں ہے
مرحوم کو اللہ کریم جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ۔اگرچہ اس بزم کاٸنات میں نہیں رہے۔مگر نام تو تاریخ میں اور کلام کتابوں میں رہے گا۔
Leave a Reply