Today ePaper
Rahbar e Kisan International

افسانہ مردہ ضمیر

Articles , Snippets , / Wednesday, March 19th, 2025

تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
نوے سالہ بزرگی کو اوڑھے اوڑھے میری کمر جھک چکی ہے، نظر بھی کم کم ہی آتا ہے، کانوں سے سنای بھی نہیں دیتا،چند ماہ پہلے تک تو لاٹھی کے سہارے گھر سے نکل کر گلی میں سے ہوتا ہوا ریلوے لاین کے ساتھ ساتھ چلتا چلتا ریل کے اشارے تک جا کر بڑے آرام سے گھر وآپس آجاتا تھا، گلی کے آخری سرے پہ لگے ہوے پیپل کے درخت سے بھی بہت ساری دل کی باتیں کر لیتا تھا چلتی پھرتی دنیا میں بچے، بڑوں، لڑکیوں بالیوں اور گھریلو ذمہ داریاں نبھاتی ہوی تھکی ماندی رنگ برنگے ملبوسات میں ملبوس خواتین کو دیکھ کے بھی زندگی کے کچھ آثار اپنی چشم نم ناک میں سمیٹ کر گھر لے آتا تھا ہاں اب ان بجھتے ہوے دیپوں میں اشکوں کے آنے جانے لگے ہی رہتے ہیں اور یادوں کی برات تو اتری ہی رہتی ہے دوجا کوی کام تو ہوتا نہیں بڑھاپے میں ہاں یادوں کی لکن میٹی خوب چلتی رہتی ہے اور میں اس ہنستی مسکراتی دنیا میں سے چند کہانیاں اپنے بوڑھے اور کمزور محافظے میں سمیٹ کر اپنی بوڑھی، بیمار اور ناتواں بیوی کے لیے روزانہ لے آتا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے وہ اپنی سرکاری نوکری سے وآپسی پہ اپنی چہیتی بیوی، بیگم ماہتاب کے لیے اس کی پسند کے مختلف پھل لانا نہ بھولتا تھا، بیگم ماہتاب چٹی گوری،درمیانے قد کی حسین عورت تھیں جنہیں پہننے اوڑھنے کا سلیقہ بھی خوب تھا اور پکانے ریندھنے کا بھی. وزن ما ہتاب بیگم کا کچھ زیادہ تھا مگر اپنی غلافی آنکھوں اور ملکوتی ہونٹوں والی بیگم ماہتاب کا حسن الگ ہی آنچ دیتا تھا، دونوں میاں بیوی ایک بھر پور محبت بھری زندگی گزار چکے تھے انھیں مالک نے ایک ہی بیٹی سے نوازا جس کا نام خوش بخت رکھا گیا خوش بخت مقدر میں بخت ہی بخت لکھوا کر لای تھی، چنی چنی آنکھوں والی، ناٹے قد والی، من موہنی مسکراہٹ والی خوش بخت سچ میں کسی چینی گڑیا کے جیسی ہی دکھتی تھی، بی اے کا امتحان پاس کرتے ہی ایڈیشنل جج صاحب کے رشتے کو پل میں ہی سویکار کر لیا گیا، ویسے بھی انڈو پاک میں لڑکی کی مناسب عمر میں مناسب جگہ پہ شادی ہونا ہی منزل پہ پہنچنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا اور ہنوز سمجھا جاتا ہے یہ اور بات کہ اب شعور نے والدین کے ساتھ ساتھ بچیوں کی آنکھیں بھی کافی حد تک کھول دی ہیں لہذا اب کالجز اور یونیورسٹیز میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے جس کے نتیجے میں خواتین زندگی کی باگ دوڑ میں بہتر اور باعزت طریقے سے آگے آ رہی ہیں، یہ بات خوش آیند ہے، خیر خوش بخت کی شادی کے بعد دونوں میاں بیوی گھر میں بالکل اکیلے رہ گیے، پورا گھر سائیں سائیں کرنےلگا لیکن چونکہ ہم دونوں میاں بیوی میں محبت زیادہ تھی اور ہم دونوں کی آپس میں بنتی بھی خوب تھی، تو ہم بیٹی کی وداعی کے بعد بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی خوش ہو لیتے تھے، بیٹی اپنے گھر میں خوش باش تھی، آگے پیچھے پانچ بچوں کی پیدائش نے اسے صرف اور صرف گھر داری ہی کا کر چھوڑا تھا، سالوں بعد بھی اسے اپنے والدین سے ملنے کی فرصت نہ ملتی تھی، والدین اکلوتی بیٹی کی راہ ہی تکتے رہ جاتے. والدین کے حصے میں یہ آزمائش اللہ پاک نے نجانے کیوں لکھ چھوڑی ہےکہ
گودیں پھولوں والی اور آنکھیں پھر بھی خالی.
خیر خوش بخت کی شادی کے بعد بھی ہمارا وقت بہت اچھا گزرا، گھر بڑا تھا، نوکر چاکر بھی تھے اور رشتہ داروں کا آنا جانا بھی لگا ہی رہتا تھا، وہ کہتے ہیں ناں کہ
چڑھتے سورج کی پجاری دنیا
کچھ نہ تھا، جھوٹ تھی ساری دنیا
تو بھری جیب کے ساتھ تو سب آپ کے ہمراہی بن جاتے ہیں مزا تو تب ہے ناں جب خالی جیب بھی یار اور رشتہ دار منہ نہ پھیریں، مگر ایسا ہوتا نہیں، دنیا صرف اور صرف اپنے مطلب ہی کی یار ہے، خیر چونکہ میں امیر نواز چغتائی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک اچھی گورنمنٹ جاب سے ریٹائرڈ تھا تو میری پنشن ہی کاروان حیات کو رواں دواں رکھنے کے کیے کافی تھی دوسرے وراثت میں ملنے والی آبائی آراضی کا بھی مجھے بہت آسرا تھا. چونکہ اکلوتی، کھاتی پیتی اور امیر بیٹی کا باپ تھا تو میرے بھای، بھتیجوں نے بے غیرتی کی انتہاوں پہ جاتے ہوئے میرے آبای زرعی رقبے پہ نہ صرف نظر یں لگا رکھی تھیں بلکہ وہ اندر کھاتے پٹواری سے اسے اپنے نام لگوانے کے الٹے سیدھے جتن بھی کرتے رہتے تھے لیکن چونکہ ہر انسان صرف اور صرف اپنی اولاد ہی سے محبت کرتا ہے تو اسی محبت سے مجبور ہو کر میں امیر نواز چغتائی نے مکمل ہوش و حواس میں اپنی ساری زرعی زمین اپنی بیٹی خوش بخت کے نام کروا دی تھی، اتنا بڑا ناقابل معافی جرم کرنے کی پاداش میں مجھے جتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں ان کی فہرست طویل ہے، مختصراً یہ کہ مجھے نہ صرف اپنے بھائیوں سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ گاوں بدر بھی ہونا پڑا، مجھے یہ بتاتے ہوئے بھی بہت تکلیف ہو رہی ہے کہ ایک بیٹی کو مناتے مناتے ہم نے سارے جگ کو اپنا دشمن بنا لیا، جب تک ہاتھ پاؤں چلتے رہے کوی پریشانی نہ ہوی ہاں جونہی ہم میاں بیوی بڑھاپے کی محتاجی والی منزل پہ پہنچے تو آٹے دال کا بھاو خوب پتا چلا، بڑھاپا، کمزوری، لاچاری، رعشے سے کانپتے ہوئے ہاتھ پاوں، ضروری باتوں کو بھول جانے کا عذاب، دولت کی کمی، غیروں پہ انحصار، نہ کوی اپنا نہ کسی اپنے سے ملنے کی آس، میری بیٹی خوش بخت اور داماد شاہ میر صرف نام ہی کے خوش بخت اور شاہ میر تھے، انھوں نے سچ میں اولاد ہونے کے حقوق تو پورے وصول کیے مگر فرایض سے جی بھر کے پہلو تہی کی. ہم بیمار میاں بیوی کو ایک کم معاوضے پہ میسر ملازمہ کے حوالے کر کے جج صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ اپنے ضعیف العمر والدین کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ جس پانچ مرلے کے دو منزلہ گھر میں ہم مقیم ہیں جج صاحب اسے اونے پونے داموں بیچ کر نو ٹ کھرے کر سکیں میں بستر مرگ پہ بار بار یہ سوچتا ہوں اور میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ وہ جج جو اپنی ہی بیوی کے معاملات میں انصاف نہ کر پایا دنیاوی مسائل کو کیسے انصاف سے نبٹا پاتا ہو گا ارے اس مردہ ضمیر کا تو ضمیر ہی نہ ہے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
drnaureenpunnam@gmail.com


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International