Today ePaper
Rahbar e Kisan International

افسانہ میرا عشق میرا قاتل

Literature - جہانِ ادب , Snippets , / Thursday, March 27th, 2025

rki.news

سہیل سالم

وہ ایک پرانی تجربہ گاہ تھی۔
تجربہ گاہ کے دائیں کونے میں ایک پرانی الماری میں کچھ خواب ،چند تمنائیں اور کئی امیدیں رکھی ہوئیں تھیں ۔تجربہ گاہ کی چھت کے بیچ ایک لوہے کی صلیب پر پرانے موسم لٹک رہے تھے ۔فرش پر جانوروں کی مختلف کھالیں اور پیڑوں کے مختلف پتے بکھرے ہوئے تھے۔دائیں دیوار کے سامنے ایک پرانی شیشہ کی الماری میں چھوٹی چھوٹی مشینیں رکھی ہوئیں تھیں ۔لکڑی کے میز پر چاندی کے تھال میں مختلف اقسام کے احساسات رکھے ہوئے تھے ۔بائیں دیوار پر لوہے کی گھنٹی لٹک رہی تھی جو ہر ایک گھنٹے کے بعد یہ آواز دیتی تھی کہ
” گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں آتا”۔
تجربہ گاہ کے سامنے والی دیوار پر کسی نے لکھا تھا ۔
“بس آگے خاموشی ہے”.
اس کے بغل میں میری ایک چھوٹی لایبریری تھی۔
ایک شام کو میں لایبریری میں بیٹھا ہوا کھڑکی سے بارش کا نظارہ دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک بڑا جگنو میرے سامنے نمودار ہوا اور کہنے لگا ۔۔
“مجھے پہچانتے ہو-”
“میں شش و پنج میں مبتلا ہوا ”
“نہیں ..!! میں نہیں جانتا ”
“ارے تعجب ہے..!! تم مجھے نہیں جانتے”
میں نے اپنے افہام و تفہیم کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا –
“اچھا ..!؟ مطلب نہ جان نہ پہچان” وہ اب سنجیدگی سے بولنے لگا-
“یہ خواب ،یہ امیدیں اور یہ تمنائیں جو تم نے خوبصورتی سے الماری میں چھپاکے رکھے ہیں۔ان ہی میں میری روشنی ہے اور ان ہی میں میرا مسکن ہے ۔”
“یہ کیا ہوگیا ہے مجھے..؟ “کیا میں وہ نہیں ہوں جو میں پہلے تھا ،کیا میری یاداشت کو کسی نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔وہ میرے شعور و آگہی میں آگ لگانا چاہتا تھا۔میں نے الماری میں چھپاکے رکھے ہوئے ان خوابوں ،تمناوں اور امیدوں میں اس کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔لیکن وہاں کچھ بھی موصول نہیں ہوا۔
سورج اپنے اصلی گھر کی اور روانہ ہوگیا تھا اور تجربہ گاہ کے آنگن میں رات اتر آئی تھی ۔
اور وہ جگنو زندگی کی کتاب پر بڑے اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔مجھے بے بس اور اداس دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
پھر صبح ہوگئی اور میں اب بھی رات کی تاریکی میں گرفتار تھا۔
رات بھر اس کی روشنی اور اس کے گھر کو خوابوں میں ڈھونڈنے کے بعد بھی میرے مقدر میں ہار لکھی تھی۔
“اب تو بتاؤ کون ہو تم..؟؟کہاں سے آئے ہو”-
“کیا میں خواب میں نہیں ملا ”
وہ زور سے ہنسنے لگے
“چلو اب تمناؤں میں مجھے ڈھونڈو”
“ڈھونڈ پاؤ گے …؟؟”وہ پھر سے زور سے ہنسنے لگا
“تمہاری باتیں ،باتیں نہیں فلسفہ ہیں ۔کیا مجھے اس طرح پریشانی میں مبتلا کرکے تمہیں سکون مل رہا ہےـ”
اس نے زبردست قہقہہ لگاتے ہوئے بولا
“تم میری روشنی میں ہواور روشنی کا اصل محور عشق ہے”
“ہوسکتا ہے مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ”
“ہاں ایک اور بات یاد ائی۔تجربہ گاہ کے فرش پر جو پیڑوں کے مختلف پتے بکھرے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ان پتوں میں بھی ،میں کبھی کبھی رہتا ہوں “میں نے جلدی جلدی تجربہ گاہ میں قدم رکھا اور فرش پر بکھرے ہوئے پتوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھا اور ڈھونڈنے کی بہت کوشش بھی کی کوئی ثبوت ہی نہیں ملا-
میں پریشان اور اداسی لے کر واپس لائبریری میں آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا ۔
“اتنی جلدی آپ نے ہار تسلیم کی اس نے بولا-
“سامنے جو دیوار پر گھنٹی لٹک رہی ہے اسے غور سے دیکھو ۔گھنٹی کی آواز میں مجھے تلاش کرو ۔”
“میں نے روز سے چلانا شروع کر دیا”
“میں نے کہا …”
“میرا ذہنی توازن جلد بگھڑ جائے گا ۔”
“فلسفے کا لبادہ اوڑھ کے بات نہ
کر…..”
“اس نے نرم لہجے میں کہا ؟”
“چیخنے چلانے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔تم اندر کے اندھیرے کو کب تک اپنے اندر ہی رکھو گے۔تمہارے سامنے جو یہ روشنی کا تارا ہے جس کے سامنے تم کھڑے ہو کر پریشان ہو۔ اپنی ہی پریشانی پر روتے رہتے ہو۔”
اپنے اندر کے اندھیرے کو خود ہی ختم کر دو ۔
اپنے اندر کی روشنی کو باہر نکالنا آپ کا کام ۔
“اس نے کہا؟”
“وہ میرے قریب ہی تھا۔ میں نے اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔۔”
“آخر تم کون ہو”
“اس نے اپنی سریلی آواز میں کہا”
“میں ہی اندھیرے کا قاتل”
اور
“میں ہی روشنی کا عشق”
” آپ کے من میں بھی ہوں ”
اور
” آپ میرے من میں بھی ہے”
یہ کہتے ہوئے وہ زندگی کی کتاب میں جذب ہوگیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International