Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

امریکی صدرکاگرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا اعلان

Articles , Snippets , / Sunday, January 11th, 2026

rki.news

تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو اپنے قبضہ میں لینے کا اعلان کر دیا ہے۔کچھ دن پہلے ونینز ویلا پر حملہ کر کے،اس کے صدر کو گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا ہے۔وینیزویلا پر حملہ کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم جو چاہیں،کر سکتے ہیں۔وینیزویلا کے قیمتی خزانوں اور تیل پر تقریبا امریکہ کا قبضہ ہو گیا ہے۔اب گرین لینڈ پر قبضے کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔گرین لینڈ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے اور اس کی خاص اہمیت ہے۔امریکی صدر نے چین اور روس کا بہانہ بنا کر گرین لینڈ پر قبضے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ روس اور چین وہاں پہنچ جائیں اورگرین لینڈ کا انتظام سنبھال لیں،اس لیے ہم پہلے ہی اس کا انتظام سنبھال رہے ہیں۔ٹرمپ نے ڈنمارک کے حکمرانوں پرالزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ گرین لینڈ کے گرد موجود سمندری حدود کی مناسب حفاظت میں ناکام رہے ہیں،تاہم ڈنمارک کے سیاستدانوں نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔امریکی صدر نے گزشتہ سال بھی گرین لینڈ پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے عسکری طاقت استعمال کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔اب ڈنمارک کی طرف سے سختی سے احتجاج کیا جا رہا ہے اور کہا گیا ہے کہ گرین لیٹ پر قبضہ کس صورت میں نہیں کرنے دیا جائے گا۔بہرحال امریکی طاقت کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ پرآسانی سے قبضہ کر سکتا ہے۔اس سے ایک اور بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کہیں بھی اور کسی پر بھی حملہ کر سکتا ہے،چاہے اس کا اتحادی کیوں نہ ہو۔ڈنمارک کی کوششیں گرین لینڈ کو بچانے کے لیے ہو رہی ہوں گی،لیکن ڈنمارک امریکہ کے مقابلے میں کمزور ملک ہے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ گرین لینڈ کو آسانی سے قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ڈنمارک کا ساتھ کچھ طاقتیں دیں لیکن یہ مشکل ہے کیونکہ امریکہ کا مقابلہ آسانی سے نہیں کیا جا سکتا۔لالچ کی وجہ سے کچھ طاقتیں امریکہ کا ساتھ بھی دینا چاہیں گی کیونکہ ان کو بھی گرین لینڈ کی دولت سے حصہ مل سکتا ہے۔
گرین لینڈ محل وقوع کے لحاظ سے بہترین پوزیشن پر ہے۔گرین لینڈ خود مختار علاقہ ہے اور ڈنمارک کاحصہ ہے۔اس کی آبادی 57 ہزار اور 81 فیصد زمین برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔اس جزیرے میں تیل سمیت بہت ہی قیمتی معدنیات پائی جاتی ہیں۔یہاں یورنیم،سونا،تیل،گیس کے علاوہ ریئر ارتھ منرلز(نایاب معدنیات) پائی جاتی ہیں. اس جزیرے پر 17 ایسی قیمتی معدنیات موجود ہیں جو کہ ڈرونز, الیکٹرک گاڑیوں،جنگی طیاروں سمیت جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔یہ قیمتی معدنیات ٹرمپ کے لیے پرکشش بنی ہوئی ہیں۔گرین لینڈ کی قیمتی دولت امریکہ کے خزانےبھر سکتی ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گرین لینڈ کو قیمتاخریدا جائےگا۔بہرحال گرین لین میں وسیع دولت کا ذخیرہ موجود ہے اور کچھ رقم قیمتی معدنیات کا ازالہ نہیں کر سکتی۔گرین لینڈ کو بچانے کے لیے چین یا روس کی امداد حاصل کی جا سکتی ہے اور اس کے بدلے میں ان کومعاوضہ دیا جا سکتا ہے۔معاوضے کے بدلے میں گرین لینڈ کی حفاظت ضروری ہے،لیکن روس یا چین امریکہ کے ساتھ براہ راست نا ٹکرانے کی پالیسی اپنائیں گے۔اگر روس یا چین گرین لینڈ کی مدد کے لیےآگئے تو ایک بڑی جنگ چھڑنے کا بھی خطرہ موجود ہے۔
یورپی یونین میں تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ نیٹو کا حصہ ہونے کے باوجود بھی ڈنمارک کے ایک علاقہ گرین لینڈ پر حملہ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ایک بڑے اتحادی کے ساتھ سلوک بہت سے ممالک کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ کو ان پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔یورپی یونین کا دباؤ شاید امریکہ کو مجبور کر دے کہ وہ گرین لینڈ پر حملہ نہ کرے۔یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے لیکن اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔کوئی بھی ملک نہیں چاہے گا کہ امریکہ کی مخالفت کی جائے۔ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح گرین لینڈ کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ چین اور روس سے بچانے کے لیے ضروری ہے،اسی طرح کسی دوسرے علاقہ یا ملک کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی سیکورٹی کے لیے امریکی قبضہ ضروری ہے۔
امریکہ صرف گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرے گا بلکہ دوسرے ممالک کی طرف بھی دیکھے گا۔گرین لینڈ کے بعد شاید لیبیا یا کسی اور ملک کا بھی نمبرآسکتا ہے۔ایران پر بھی کچھ عرصہ پہلے حملہ ہو چکا ہے اور چند دن پہلے ایرانی حکومت کو وارننگ دی گئی ہے۔ایرانی حکومت کو تنبیہ کی گئی تھی کہ اگر عوام کے ساتھ پرتشدد کاروائیاں نہ روکی گئیں تو اس پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔بہت سے ممالک امریکہ سے ڈرےہوئے ہیں۔اقوام متحدہ تو موجود ہے لیکن اس کا کردار بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔اقوام متحدہ کا دفتر صرف مذمت کر سکتا ہے،کچھ اور نہیں کر سکتا۔اقوام متحدہ کو بھی فعال کردار اداکرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں بد امنی نہ پھیلے۔صرف گرین لینڈ یاوینیزویلا میں بدامنی نہیں پھیل رہی بلکہ فلسطین سے لے کر شام،علاوہ ازیں کئی خطوں میں بھی بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔دنیا میں موجود بدامنی پر قابو پانے کے لیے پوری عالمی برادری متحد ہو جائے۔جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہو اس کو روکنے کی کوشش کی جائے،بلکہ روکا جائے۔ظلم اور جبر کو روکنا ضروری ہے تاکہ دنیا میں امن آجائے۔اسلامی ممالک بھی اس وقت کمزوری کا شکار ہیں اور اس کمزوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کےآپس میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔اختلافات کو اگربھلا کر اتحاد قائم کر دیا جائے تو اسلامی ممالک بہت آگے جا سکتے ہیں۔بہرحال اس وقت یہ نظر آرہا ہے کہ امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کرے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International