rki.news
عامرمُعانؔ
میں خدا، اپنے اہل خانہ، اپنے اساتذہ کرام اور ساتھیوں کے سامنے اس بات کا اقرار کرتا/کرتی ہوں، کہ میں اپنی بہترین صلاحیتوں اور قوت فیصلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مریضوں کا علاج کروں گا/گی، اور میں کسی ایسی سرگرمی کا مرتکب نہیں ہوں گا/گی، جس سے میرے مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو، اگر میں اپنے اس حلف پر پورا اترتا/اترتی ہوں، تو مجھ پر خدا کی رحمت ہو اور مجھے اپنے ساتھیوں اور معاشرے کی جانب سے عزت و احترام ملے، لیکن اگر میں اس حلف سے روگردانی کا/کی مرتکب ہوں تو میری یہ دعا قبول نہ ہو۔
یہ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ پر مشتمل ایک حلف ہر میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ طالب علم اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد سند وصول کرتے وقت اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے لازمی اٹھاتا ہے۔
شعبہ طب ہمیشہ سے ایک ایسا شعبہ رہا ہے جسے زمانہ قدیم سے لے کر آج تک نہایت قابل احترام سمجھا گیا ہے، اور اس سے وابستہ افراد کو معاشرے کے معزز ترین افراد کی فہرست میں اعلیٰ درجوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ افراد انسانی خدمت کے شعبہ سے وابستہ ہو کر انسانیت کے لئے بھرپور خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ شعبہ جو خالصتاً انسانیت کی خدمات انجام دینے میں پیش پیش رہا ہے، اس شعبہ سے وابستہ افراد پر کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالتا ہے۔ اس لئے زمانہ قدیم سے اس شعبہ سے وابستہ افراد سے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لئے ایک حلف لیا جاتا ہے۔ جس کو قدیم یونانی طبیب ہیپوکریٹیز کے نام پر ہیپوکریٹک حلف کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہیپوکریٹیز کو جدید طب کا بانی سمجھا جاتا ہے جو تقریباً 2500 سال پہلے اس شعبہ سے وابستہ تھا۔ یہ ایک طبی اخلاقی حلف ہے۔ جس کا مقصد اس پیشہ سے نئے وابستہ ہونے والے افراد پر ایک اخلاقی معیار کی پابندی لگانا ہے، تاکہ وہ انسانیت کو ہر چیز سے مقدم رکھتے ہوئے انسانی زندگی کو بچانے کی کوشش کو اولیت دیں۔ اسی لئے اس حلف کو طب کے پیشے سے منسلک ہونے والے افراد کے لئے لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں طب کی تعلیم میں کامیابی حاصل کرنے والوں سے پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات سے پہلے اسناد دینے کی تقریبات منعقد کر کے یہ حلف شرکاء کے سامنے لیا جاتا ہے، تاکہ وہ تا عمر اس کا پابند رہے۔
حلف کے بنیادی مقاصد پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس حلف کے چند اہم مقاصد یہ ہیں۔ انسانیت کی خدمت کرنا، اخلاقیات کی پاسداری کرنا، مریض کو فوقیت دینا، پیشہ وارانہ طرز عمل اختیار کرنا، مسلسل سیکھنے کی جدوجہد کو برقرار رکھنا۔ اس حلف میں کہیں بھی ایسا نقطہ شامل نہیں ہے جس میں لکھا ہو کہ اس شعبے سے وابستہ ہونے کے بعد دولت کو مقدم اور مریض کو غیر اہم سمجھا جائے گا یا پھر مشینوں کی طرز پر مریضوں سے بے رحمانہ سلوک روا رکھا جائے گا۔ اب اگر ہم پاکستان میں اس شعبے سے منسلک افراد کا بغور معائنہ کریں تو کیا ہم اپنے معاشرے میں اس شعبہ سے منسلک افراد میں وہ تمام خصوصیات دیکھ پا رہے ہیں، جن کا ذکر اس حلف میں موجود ہے؟ کیا اسپتالوں کے دروازوں سے داخل ہوتے ہوئے مریضوں سے واقعی انسانیت بھرا سلوک ہو پا رہا ہے؟ کیا ہم واقعی اس شعبے کی اعلیٰ اقدار کو اولیت دے پا رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ بی بی سی نے اپنی 2019 کی رپورٹ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی کارکردگی پر نا صرف سوالیہ نشان اٹھایا تھا، بلکہ انہیں پیسہ کمانے والی مشین کے نام سے یاد کیا تھا؟۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ جس نام سے آپ کو خلق خدا یاد کرتی ہے، وہی آپ کا اصل چہرہ ہوتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ خلق خدا آپ کے طر عمل سے مطمئن نہیں ہے؟ وہ کیا عوامل ہیں جن کی وجہ سے آپ کا حلف کسی ردی کی ٹوکری کی نظر ہو چکا ہے؟ کسی بھی ایف ایس سی پاس نوجوان سے پوچھیں کہ آپ ڈاکٹر کیوں بننا چاہتے ہیں، تو اس کا جواب ہو گا کہ ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے دکھی انسانیت کی خدمت کرنا، پھر کیا وجہ ہے کہ انہی نوجوانوں کو ڈاکٹرز بن کر اسپتال میں قدم رکھتے ہوئے وہی بلکتی ہوئی دکھی انسانیت نظر نہیں آتی ہے؟ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو بھیڑ بکریاں کیوں سمجھا جاتا ہے، اور کیوں ان سے صرف نظر کیا جاتا ہے، ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے جیسے کوئی عام درباری بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا ہو۔ مہنگے اسپتالوں میں علاج کے نام پر خاطر خواہ رقم بٹورنے کے بعد ایک جملہ کہہ کر کہ خدا کو یہی منظور تھا اپنی کوتاہیوں کو چھپا لیا جاتا ہے۔ کیا کسی ترقی یافتہ معاشرے میں آپ کو اسپتالوں میں ایسا ماحول نظر آتا ہے، جیسا ماحول ہمارے ملک کے بڑے سے بڑے اسپتال کے کوریڈور میں نظر آ رہا ہوتا ہے؟ ڈاکٹرز کی تو بات ہی جدا ہے ایک عام پیرامیڈیکل اسٹاف بھی خود کو چھوٹا ڈاکٹر سمجھ کر مریضوں پر خوب رعب جھاڑ رہا ہوتا ہے، اور تب انسانیت اسی اسپتال کے کسی کونے میں سسک رہی ہوتی ہے، اور شاید تب ہیپوکریٹیز بھی اسی کونے میں کھڑا سوچتا ہوگا کہ کیا یہ شعبہ اتنا باعث عزت رہ گیا ہے، جتنی ہم نے اس کی پاسداری کرنے کی کوشش کی تھی ؟
Leave a Reply