Today ePaper
Rahbar e Kisan International

اک ستارہ جو ڈوب گیا

Articles , Snippets , / Friday, February 10th, 2023

ڈاکٹر پونم گوندل لاہور
drpunnamnaureen@gmail.com

اک ستارہ جو ڈوب گیا
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
امجد اسلام امجد
دنیاے ادب پہ مسلسل کءی دہائیوں سے چمکنے والا ستارہ باکمال شاعر خوبصورت ڈرامہ نگار اور بہت ہی غضبناک تنقید نگار ایک ہمہ جہت شخصیت جو لاہور میں پیدا ہوئے اگست 1943 اور یہ ستارہ اتنا چمکدار اور روشن تھا کہ اس کی جگمگاہٹ نے پورے جہان کو تابناک کر دیا
ایک عجب سوز و گداز کا جہان امجد اسلام امجد صاحب نے متعارف کرایا جہاں محبت کا گداز، جذبات کی سچائی اور ماحول کی سحر انگیزی قارئین و سا معین کو گرفت میں ہی نہیں لیتی ایک عجب سحر میں جکڑ کے قاری کو امجد اسلام امجد صاحب کا دیوانہ بھی بنا دیتی ہےاور امجد اسلام امجد صاحب ایک نہیں دو نہیں تین نسلوں کے نمایندہ شاعر ہیں انتہائی نپا تلا اورسلجھا ہوا انداز ایک دھیما سا لہجہ جو لوگوں کے درمیان موجود بھی ہوتا اور در حقیقت کسی اور جہان کا باسی بھی ہوتا روایت اور ثقافت کی ترجمانی اگر کسی نے سیکھنی ہو تو امجد اسلام امجد صاحب سے بڑا استاد اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا غرور نہیں تھا مزاج میں ایک احتیاط کا پہلو تھا جو انھیں اپنے ہم عصر شعرائے کرام سے ممتاز کرتا تھا
وارث ڈرامہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس انتہا کا اچھا ڈرامہ تھا کہ اسی کی دھای میں اماں بتاتی ہیں کہ اس ڈرامے کو دیکھنے کے وقت لوگ اس طرح جم کے ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھ جاتے تھے کہ گلیاں سنسان ہو جاتی تھیں اور پورے شہر پہ ہو کا عالم طاری ہو جاتا تھا خاندانی دشمنی طبقاتی اونچ نیچ اور پیار محبت اور نفرت کی تکون میں سچ کا علم بلند تھا اور یہی امجد اسلام امجد صاحب کا کمال تھا جو تقریباً نصف صدی بعد بھی وارث اپنے وارث گنوانے کے بعد بھی زندہ و جاوید ہے کتابیں بہت لکھی جاتی ہیں ڈرامے اور فلمیں بھی دھڑا دھڑ بنتی ہیں لیکن وہ کتابیں کہانیاں اور فلمیں ڈرامے معدودے چند ہی ہیں جو انسانی دل و دماغ پہ نقش ہو جاتے ہیں وارث ڈرامہ بھہ امجد اسلام امجد صاحب کا ایسا ہی ایک شاہکار ڈرامہ ہے درجنوں کتابوں کے مصنف اردو کے معتبر استاد ایک ایسا نام جس کے ساتھ تکریم ہی تکریم ہو وہ نام ہے عزت مآب قابل صد احترام جناب امجد اسلام امجد صاحب کا آج سے تقریباً تین سال پہلے جب میں اپنی پہلی کتاب عشق جاوداں کی اشاعت میں مصروف تھی تو میری امجد اسلام امجد صاحب سے پہلی دفعہ بات ہوئی سر ان دنوں ترکی کے کسی مشاعرے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے انھوں نے بڑے تحمل اور حوصلے سے میری بات سنی اور مجھے میری شاعری پہ اپنی قیمتی رائے بھی دی اور میں حیران ہوی کہ ایک اتنا بڑا انسان بھی میرے جیسے عام انسان کی بات اتنی توجہ اور غور سے سن سکتا ہے واقعی میں پھل ہمیشہ جھکی شاخوں پہ ہی لگتے ہیں بعد میں بھی وقتا فوقتاً ان سے بات چیت ہوتی رہی اور وہ اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے بڑے لوگوں کی اونچی شان اور بڑے بڑے کام
آج دس فروری کی صبح اردو ادب پہ بہت بھاری ہے جمعتہ المبارک کا دن ہے اور امجد اسلام امجد صاحب بغیر بتائے بغیر کچھ کہے بغیر سنے اس جہاں سے اس جہاں چلے گیے وہاں جہاں جا کے کوئی وآپس نہیں آتا پوری ادیب برادری ورطہ حیرت میں مبتلا ہے سوشل میڈیا پہ بس ایک ہی خبر بار بار گردش کر رہی ہے کہ امجد اسلام امجد صاحب اب دنیا میں نہیں رہے اردو کے معروف شاعر ڈرامہ نویس کام نگار اور تنقید نگار حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیے
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ پاک درجات بلند فرمائے اور غریق رحمت کرے آمین
شہرت کی دیوی جس طرح امجد اسلام امجد صاحب پہ مہربان اور سایہ فگن رہی وہ بہت سوں کا خواب ہوتی ہے لیکن یہ خوش نصیبی امجد اسلام امجد صاحب کو نصیب ہوئی کہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی وہ بہت زیادہ سراہے گیے آج جمعہ شریف ہے اور ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قبر کی پہلی رات اگر جمعتہ المبارک ہو تو حساب کتاب سے نجات مل جاتی ہے آءیے ہم سب اپنے پیارے امجد اسلام امجد صاحب کے لیے سورۃ فاتحہ تین مرتبہ قل شریف اول و آخر درود شریف پڑھ کر دعاے مغفرت کریں آمین
ستارہ پھر بھی روشن ہے
ستارہ ڈوب بھی جاے
کنارہ چھوٹ بھی جاے
نہیں کچھ غم
کہ
کیا ہوگا
بھلے سب پھیر لیں آنکھیں
بھلے تنہا ہمیں کر دیں
جہاں میں بے زباں کر دیں
ہمیں سب بے اماں کر دیں
دیا لفظوں میں جلتا ہے
وہ زندہ ہے زمانوں میں
سبھی ساری زبانوں میں
ستارہ ڈوب بھی جاے
ستارہ ٹوٹ بھی جاے
ستارہ پھر بھی روشن ہے


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International