Today ePaper
Rahbar e Kisan International

ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی

Articles , Snippets , / Friday, January 30th, 2026

rki.news

تحریر:اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com

ایران اور امریکہ کے درمیان زبردست کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔یہ کشیدگی کسی بھی وقت بہت بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔جنگ کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہے لیکن اس وقت جو وجہ زیادہ زیر بحث ہے وہ ہے ایٹمی مواد۔امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران ایٹمی مواد سے دستبردار ہو جائے تو تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ایران نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایٹمی صلاحیت مثبت مقاصد کے لیے ہے۔امریکی حکومت ہمیشہ سےیہ دعوی کرتی رہی ہے کہ ایران ایٹمی توانائی کو فوجی مقاصد کے لیے تیار کر رہا ہے،بلکہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ایٹم بم بنا لیاجائے۔ایٹمی توانائی کی وجہ سے ایران پر سخت قسم کی پابندیاں لگی ہوئی ہیں اور ان پابندیوں نے ایران کی کمزوری میں اضافہ کیا ہوا ہے۔اس کے باوجود ایران اتنا مضبوط ضرور ہے کہ امریکہ یا کسی دوسری طاقت کا مقابلہ کر سکے۔گزشتہ سال کےجون میں بھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران نے مقابلہ کیا۔اب بھی ایران مقابلے کے لیے تیار ہے۔یہ سچ ہے کہ دفاعی لحاظ سے کمزور ایران امریکہ کا مقابلہ تو نہیں کر سکتا لیکن کافی نقصان پہنچا سکتا ہے اور وہ نقصان بھی امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتا ہے۔امریکی صدر اس وقت کئی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کر چکے ہیں اور وہ کشیدگی عالمی طور پر امریکہ کو تنہا کر رہی ہے۔اس وقت بھی بہت سے ممالک امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں،ان میں سےکچھ ممالک ڈر کی وجہ سے اور کچھ ممالک لالچ کی وجہ سے امریکہ کا ساتھ دےرہےہیں۔امریکہ پر حملہ کی صورت میں شاید کچھ ممالک امریکہ کا ساتھ دیں،لیکن مشرق وسطی کے ممالک امریکہ کا ساتھ دے کر اپنا بہت بڑا نقصان کر لیں گے۔نقصان اس لیے کہ ایران جوابی وار کر کے ان ممالک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ایران اپنی بقا کی جنگ لڑے گا اور وہ جنگ ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔جس طرح دعوے کیے جا رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹم بم موجود ہے تو وہ ایٹم بم کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے۔امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نےبحری بیڑا روانہ کردیاہے لیکن استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا۔اس سے علم ہوتا ہے کہ امریکہ ایران سے خوفزدہ بھی ہے۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ بہت بڑے اور طاقتور جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں،امید ہے ایران کے خلاف فوجی کروائی کی ضرورت نہ پڑے۔ایران کے ساتھ مزید بات چیت کی جائے گی۔بہرحال ایران کے ساتھ کافی عرصہ سے ایٹمی مذاکرات کیے جا رہے ہیں،لیکن وہ مذاکرات کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ان مذاکرات کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ ایران نہیں چاہتا کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیت کو مکمل طور پر کھو دے،لیکن امریکہ کا بڑا مطالبہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیت کو ختم کر دے۔ایران دباؤ برداشت کر رہا ہے لیکن اپنے موقف سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔پابندیاں ہٹانے کے علاوہ دیگر فوائد کی پیشکشیں بھی کی گئیں لیکن ایران اپنے موقف سے نہیں ہٹ رہا۔امریکہ کی تیاریاں بتا رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے والی ہے،لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے جنگ شروع نہ ہونے کے امکانات بھی ہیں۔ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایران کی طرف سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں تل ابیب کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ ایران کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔امریکہ اور اسرائیل اتنا رسک نہیں لے سکتے کہ اسرائیل کو تباہ کر دیا جائے یا امریکی اڈوں کو نشانہ بنا دیا جائے۔ہو سکتا ہے کچھ راستہ نکال لیا جائے،لیکن جنگ بھی ناگزیر لگتی ہے۔جنگ اس لیے ناگزیر لگتی ہے کہ امریکہ اپنی ساکھ کھو سکتا ہے اور اپنی ساکھ کو مضبوط کرنے کے لیے ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکی فوج ایران کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،تاکہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ مختلف آپشنز کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔امریکی حملے کا خطرہ بہت ہی بڑھا ہوا ہے۔ایران نےبھی اپنی قوت کے اظہار کے لیے آبنائےہرمز کے قریب فوجی مشق کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایران نےآبنائے ہرمزکے قریب موجود بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ایک فوجی مشق کرنے جا رہا ہے جس میں لائیو فائرنگ بھی شامل ہوگی۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ ہے،یہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریبا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔اس لیے کسی بھی فوجی سرگرمی سے عالمی منڈی پر اثرات مرتب بھی ہو سکتے ہیں۔عالمی منڈی کےمتاثر ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ایرانی فوج نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دشمن نے حملہ کیا تو خطے میں امریکی فوجی اڈے اور طیارہ بردار جہاز ہمارے اہداف ہو سکتے ہیں۔ایران مکمل طور پر تیار ہے کہ کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان فی الحال کشیدگی کم ہونے کاامکان نہیں ہے۔ہو سکتا ہے کچھ عرصہ کے لیے خاموشی اختیار ہو جائے،لیکن جنگ ٹلنا مشکل نظرآرہا ہے۔اس جنگ سے مشرق وسطی میں بہت بڑی بد امنی پھیل جائے گی۔خطے کےممالک شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکہ کے مشرق وسطی میں عارضی اور مستقل اڈے موجود ہیں،جنگ کی صورت میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔جب ان اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا تو وہ ممالک بھی جنگی لپیٹ میں آجائیں گے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔جنگ سے خطے کے دیگر ممالک بھی خوفزدہ ہیں،لیکن اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ایران کی فوج کی طرف سے جس طرح وضاحت کی جا رہی ہے کہ حملے کی صورت میں ہم تل ابیب کو بھی نشانہ بنائیں گے اور امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا،اس لیےاسرائیل بھی اس کوشش میں ہے کہ ایران کے ساتھ بہتر مذاکرات ہو جائیں۔اس وقت ایران مضبوط پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود بھی اپنی سلامتی برقرار رکھ رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اسرائیل بھی خوفزدہ ہے اور امریکہ بھی خوفزدہ ہے کہ اس کے اڈوں کو نقصان نہ پہنچ جائے۔مشرق وسطی کےممالک بھی کوشش ضرور کریں گے کہ یہ جنگ نہ شروع ہو،ورنہ انجام ان کے لیے بھی بہتر نہیں ہوگا۔عالمی طور پر خطے میں امن کے لیے کام ہونا چاہیے ورنہ دیگر بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔اس وقت ایران و امریکہ کے درمیان بھی جنگ روکنے کی ضرورت ہےاور غزہ کا مسئلہ بھی حل کرنا ضروری ہے۔غزہ میں بھی بہت تباہی ہو چکی ہے،مزید تباہی سے روکنا ضروری ہے۔جنگ روکنے کے علاوہ معاشی مضبوطی بھی ضروری ہے ہے،تاکہ عالمی امن کی طرف بڑھا جا سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International