rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
ایران اس وقت بہت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ حکومت کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئی ہے۔یہ احتجاج یا مظاہرے اس لیے شروع ہوئے کہ عوام مہنگائی سے تنگ آگئی ہے۔عالمی پابندیوں نے ایران کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔مہنگائی بے تحاشہ بڑھ چکی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں سالانہ اضافہ بیالیس فیصد ہے۔ایرانی کرنسی مسلسل گررہی ہے اور افراط زر نے مہنگائی کی شرح کو بہت ہی بلند کر دیا ہے۔یہ احتجاج یا مظاہرے غیر معمولی مہنگائی کے خلاف ہو رہے ہیں اور ایک دوسری وجہ کرپشن بھی ہے۔کرپشن نے بھی ایران کی معیشت کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔پہلے ایک شہر سے چند دکانداروں نے احتجاج شروع کیا لیکن اب تقریبا تمام ایران میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔احتجاج 28 دسمبر سے شروع ہوا ہے اورتاحال جاری ہے۔حکومت ان مظاہروں پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی بلکہ احتجاج میں اضافہ ہو گیا ہے۔ایرانی پولیس اور فورسز نے تشدد کے ذریعے احتجاج کو روکنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔تشدد کی وجہ سے 36 افراد کی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ہلاک ہونے والے 36افراد میں 2 کا تعلق سیکیورٹی فورسز اور 34 کا تعلق عوام سے ہے۔60 افراد زخمی ہو چکے ہیں اور2076 افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ احتجاج کب تک کنٹرول ہو سکے گا؟ایرانی حکومت اگر تشدد میں اضافہ کرتی ہے تو عوامی مزاحمت میں بھی شدید اضافہ ہو جائے گا۔ہو سکتا ہے یہ احتجاج بہت بڑے حادثے کا سبب نہ بن جائے۔ایران کے صدر مسعودپزشکیان نے ایک اعلی سطحی اقتصادی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،جو سبسڈی میں اضافہ،تنخواہوں کی نظرثانی اور کرنسی مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے فوری اقدامات تجویز کرے گی۔ایرانی حکومت نے کچھ سبسڈی کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ احتجاج ایرانی حکومت کے لیے خطرناک ثابت بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف پر تشدد کاروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔امریکی صدرنے یہ دھمکی وینیزویلا پر حملے سے ایک دن قبل دی تھی۔ہو سکتا ہے امریکہ عوامی احتجاج کا بہانہ بنا کر ایران پر حملہ کر دے،ویسے کسی بہانے کے بغیر بھی ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔کچھ عرصہ قبل بھی اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا تھا،لیکن وہ حملہ محدود تھا۔محدود حملے کی وجہ سے جنگ نہ شروع ہو سکی،اب بڑی جنگ بھی شروع ہوسکتی ہے۔اسرائیلی اور امریکی حملے نے بھی ایران کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیا تھا۔ایران ویسے بھی کمزور معیشت اور کمزور دفاع کی وجہ سے آسان ہدف بنا ہوا ہے۔اس پر حملہ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مخالفین کو یقین ہو کہ ایران ایٹمی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور وہ ایٹمی صلاحیت ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔بیرونی طاقتیں بھی احتجاج کو دیکھ رہی ہوں گی اور مظاہرین کی مدد بھی کر رہی ہوں گی۔اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت ایران کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے اور اندرونی طور پر احتجاج بھی کمزور کر رہا ہے۔ہو سکتا ہے لمبے عرصے تک ایران یہ دباؤ برداشت نہ کر سکے۔احتجاج اگر فوری طور پر کنٹرول نہیں ہوتا تو ایران اسرائیل یا امریکہ سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔یہ احتجاج صرف حکومت کو برطرف نہیں کرے گا بلکہ ایران کی سالمیت کو بھی نقصان پہنچا دے گا۔ایران کی روحانی قیادت بھی سخت پریشانی کا شکار ہو چکی ہے۔ایران کی روحانی قیادت کا مطلب سپریم لیڈرشپ ہے،جس کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای ہیں۔سپریم لیڈرشپ، افواج اور حکومت اس کو کنٹرول کرتی ہے۔سپریم لیڈر شپ کا اثرو رسوخ عوام پر بہت زیادہ ہے،شاید احتجاج پر وہ کنٹرول حاصل کر لے۔اگر سپریم لیڈرشپ بھی احتجاج کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئی تو ایران کی سالمیت بھی متاثر ہو جائے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روحانی قیادت موجودہ حکومت کو برطرف کر دے،اس طرح بھی احتجاج پر کنٹرول ہو سکتا ہے۔
ایران بہت سی مشکلات کے علاوہ عالمی تنہائی کا بھی شکار ہے۔امریکہ اوراسرئیل کی مخالفت نے ایران کو عالمی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ایران کی چین یا روس مدد کر سکتا ہے اور ان کو کرنی بھی چاہیے کیونکہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کا خطے میں واحد دشمن ہے۔مشرق وسطی میں ایران امریکی اور اسرائیلی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہے۔ایرانی معیشت کو بھی مستحکم ہونے کی ضرورت ہے۔کمزور معیشت کی وجہ سے ایران بڑے دشمنوں کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اب بھی ایٹمی توانائی ایران کو تباہی سے بچا رہی ہے،ہو سکتا ہے ایران کے پاس ایٹمی توانائی موجود نہ ہو جس طرح ایران کی طرف سے دعوی کیا جاتا ہے کہ ایٹمی توانائی مثبت مقاصد کے لیے ہے نہ کہ فوجی مقاصد کے لیے۔مظاہروں کے دوران اگر ایران پر حملہ ہو جاتا ہے تو زیادہ آبادی ہلاک ہو سکتی ہے،کیونکہ مظاہرہ کے دوران زیادہ تعداد اکٹھے ہی موجود ہوگی۔ایرانی حکومت کوشش مظاہروں کو کنٹرول کر رہی ہے لیکن اس کو زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ احتجاج کو فوری طور پر کنٹرول کیا جا سکے ورنہ شدید نقصان ہو جائے گا۔ایران کی اعلانیہ مددکےلیے کوئی ملک اس لیے بھی تیار نہیں ہوگاکہ اس طرح امریکہ ان کا مخالف ہو سکتا ہے۔ہو سکتا ہے کچھ ممالک اس کی خفیہ مدد کر رہے ہوں۔بہرحال اس وقت ایران اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔ایران کی اشرافیہ کو بھی اپنی مراعات میں کمی کرنا ہوگی،اس طرح عوام کو یقین ہو جائے گا کہ ان کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی حکومت اس احتجاج کو کس طرح روکتی ہے۔احتجاج کو نہ روکا گیا تو ایران شدید مشکلات میں گھر سکتا ہے اور بیرونی حملہ بھی ہو سکتا ہے۔
Leave a Reply