Today ePaper
Rahbar e Kisan International

“این میری شمل, مغرب میں اسلام اور فکرِ اقبالؒ کی سفیر”

Articles , Snippets , / Tuesday, January 27th, 2026

rki.news

(تحریر احسن انصاری)

مس این میری شمل جرمنی کی وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے اسلام، مسلم تہذیب، تصوف اور خصوصاً فکرِ اقبالؒ کو مغرب میں جس گہرائی اور محبت سے متعارف کرایا، وہ کسی مسلم محقق سے کم نہ تھا۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ سول اعزازات عطا کیے اور لاہور میں ان کے نام سے سڑک بھی منسوب کی گئی۔ استنبول، میونخ اور امریکہ کی جامعات میں وہ اقبالؒ کے فکر و پیغام کی مؤثر ترجمان رہیں۔
این میری شمل نے اقبالؒ پر اپنی مشہور کتاب Gabriel’s Wing (روحِ جبریل) لکھی اور جاوید نامہ کا منظوم جرمن ترجمہ کیا۔ وہ بالخصوص نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ سے بے حد متاثر تھیں اور ایک عرب صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کو اس نظم کے پیغام سے اپنی عظمتِ رفتہ کو دوبارہ زندہ کرنا چاہیے۔ یوں وہ یورپ میں فکرِ اقبالؒ کی بلبل قرار پائیں۔
ڈاکٹر این میری شمل 7 اپریل 1922ء کو جرمنی کے شہر ایرفرٹ میں پیدا ہوئیں۔ متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود بچپن ہی میں انہیں کتابوں سے گہرا شغف ہو گیا اور دورانِ تعلیم مشرقی تہذیب و اسلامی علوم کی طرف مائل ہوئیں۔ وہ خود کہتی تھیں کہ انہیں معلوم نہیں یہ محبت کہاں سے آئی، مگر اسے وہ خدا کا انعام سمجھتی تھیں۔ والدین کی حوصلہ افزائی سے انہوں نے عربی سیکھی اور یوں اسلامی تہذیب کے مطالعے کا آغاز ہوا۔
انیس برس کی عمر میں بون یونیورسٹی سے ’’مملوک مصر میں خلیفہ اور قاضی کا رتبہ‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی۔ دیگر مستشرقین کے برعکس، انہوں نے اسلام کا مطالعہ تنقید یا تصادم کے بجائے اس کے تخلیقی، روحانی اور فکری جوہر کو سمجھنے کے لیے کیا۔
1957ء میں انہوں نے جاوید نامہ کا جرمن ترجمہ کیا اور اقبالؒ کے ذریعے مولانا رومؒ سے فکری وابستگی پیدا ہوئی۔ 1958ء سے 1998ء تک وہ 35 مرتبہ پاکستان آئیں اور اقبالیات، تصوف اور مشرقی علوم پر لیکچرز دیے۔ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا وطن کہتی تھیں۔ لاہور میں پہلی بار لیکچر کے موقع پر ڈاکٹر جاوید اقبال کی موجودگی نے انہیں جذباتی طور پر متاثر کیا، مگر یہی ان کے اقبالؒ سے خلوص کا مظہر بھی تھا۔
1963ء میں علامہ اقبال پر ان کی پہلی کتاب شائع ہوئی جس کا اردو ترجمہ ’’شہپرِ جبریل‘‘ کے نام سے ہوا۔ انہوں نے اقبالؒ پر کم و بیش دس کتابیں لکھیں اور بانگِ درا، پیامِ مشرق اور جاوید نامہ سمیت متعدد تصانیف کا جرمن ترجمہ کیا، جو جرمن ادب میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔
پاکستانی صوفیاء سے ان کی محبت بھی نمایاں تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی، مست توکلی، شہباز قلندر، شاہ شمس سبزواری، بہاءالدین زکریا اور شاہ رکن عالم جیسے بزرگوں پر انہوں نے لکھا۔ تاہم مولانا رومؒ پر ان کی شہرۂ آفاق کتاب The Triumphal Sun نے مغرب میں رومی کو متعارف کرانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ قونیا کے سفر میں ہر درخت، پتھر اور پرندہ انہیں مولانا کا پیغام سناتا محسوس ہوتا تھا۔
برلن، انقرہ، ہاورڈ اور بون یونیورسٹیوں میں تدریس کے بعد انہیں 1995ء میں بون یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر مقرر کیا گیا۔ وہ جرمن، انگریزی، عربی، فارسی، اردو اور ترکی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں اور سندھی، سرائیکی و پنجابی سے بھی شغف رکھتی تھیں۔ انہوں نے متعدد برصغیری مصنفین کی کتابیں جرمن میں منتقل کیں اور سو سے زائد کتابوں کی مصنفہ تھیں۔ ان کا گھر اسلامی مخطوطات سے بھرا ہوا تھا، جن میں سے کئی انہوں نے بون یونیورسٹی کو عطیہ کیے۔
حکومتِ پاکستان نے انہیں 1983ء میں ہلالِ امتیاز، بعد ازاں ستارۂ امتیاز اور 1988ء میں عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ عطا کیا۔ لاہور میں نہر کے کنارے ایک سڑک ان کے نام سے موسوم کی گئی، جس پر وہ مزاحاً کہتی تھیں کہ ’’پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا۔‘‘ ان کے نام پر تعلیمی وظیفہ بھی جاری کیا گیا۔ ڈاکٹر این میری شمل 26 جنوری 2003ء کو بون، جرمنی میں انتقال کر گئیں، مگر اسلام، تصوف اور فکرِ اقبالؒ کے فروغ میں ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International