rki.news
لبوں پہ پھیلی زخمی مسکراہٹ ہو،
یا ضبط کا وہ موتی جو آنکھوں میں ٹھہر گیا ہو
اماوس کے سینے کا چاند
یا جھیل کنارے اگے خود رو پھولوں پہ جمی شبنم
شعر کا وہ پہلا لمس جو اپنی حدت سے قاری کا دل پگھلا دے
یا پھر
محبت سے دھڑکتے دلوں کا غرور
رگِ ہنر سے کشید کی گئی کوئی نظم
یا پھر وہ غزل جو ساکن کو ارتعاش کا مرتبہ بخشے
خوبصورت دل گداز کلام لکھنے والی شاعرہ تمثیلہ لطیف
میری ادبی دوست
اسے لکھنے کا ارمان تو بہت پہلے سے تھا
مگر اس کی دل گداز شاعری کے لیے میرے پاس جملے ہی کہاں تھے
اور محبت میں برابری کی شراکت نہ ہو تو لطف ہی کہاں؟
رات اپنے دامن میں کتنے سویرے اٹھا لائی
اور کتنے سویرے رات کی کوکھ میں روپوش ہوئے
مگر میں اپنی خواہش کی اسیر
فقط اس انتظار میں بیٹھی ان لفظوں کی راہ تکتی رہی
جو اپنی مٹھیوں میں گلاب لیے
اس کے اشعار کا سواگت کریں گے
اور اب جب سورج نے تھکن کی چادر اوڑھ لی
تو میں نے تخیل کے ہاتھوں سے گلاب لے کر
اس کی ان غزلوں کے رستوں میں رکھ دیے
جو کبھی آئینے جیسی دکھتی ہیں
اور کبھی دشت میں اتری چاندنی کی طرح
کبھی اپنے دل پر پتھر رکھتی ہوئی
یادوں کے در کو بند کرتی ہوئی
قاری کے دل کو یوں چھو جاتی ہیں
جیسے زرد محبت ڈوبتے سورج کو الوداع کہتی ہے
ماں کی یاد میں لکھے اس شاعرہ کے دل گداز اشعار
پڑھتی ہوں تو لگتا ہے جیسے
ماں کی وہ چوڑیاں چشمِ تصور میں رنگین دائرے بناتی ہوں
جن کی آواز تو اب نہیں آتی
مگر ایک نمناک احساس جو دل چیرتا ہے
شاعری غربت کا گہرا دکھ ہے
جسے بس محسوس کیا جاتا ہے
تمثیلہ نے نہ صرف اسے محسوس کیا
بلکہ اس گداز کو پیش بھی کیا
اور اب تو وہ مجھے
اس سوال جیسی لگنے لگی ہے
جو جواب کی ضد نہیں کرتا
بس وہ دل کے کونے میں خاموش بیٹھا
خودکلامی کرتا ہے۔
ہم شاعرات بھی کیسی عجیب ہوتی ہیں،
ہر پل احساس کے جھولے میں جھولتی ہوئی،
اپنی آنکھوں میں جگنو سمیٹے جو نصاب روشنی کے امین،
ہر پل آنکھ بھگونے کے لیے تیار رہتے ہیں،
اور اس پر یہ زخمی مسکراہٹ جو لبوں کو چھو کر گزرتی ہے۔
شاعرات تو مخمل کے پھول کی پنکھڑیوں پر گری اوس جیسی ہوتی ہیں،
جن میں قاری اپنا عکس دیکھتا ہے،
تمھاری آئنے جیسی غزلیں زخم، خواب، بغاوت، خاموشی، التجا، انتظار جیسے احساسات میں سلگتی ہیں۔
تمھاری شاعری کا عجیب طلسم ہے جو پڑھنے والے کے بند دریچوں کو پل میں کھول دیتا ہے،
جہاں ہر مصرع میں اسے اپنے ہی زخم دکھائی دیتے ہیں،
تمھاری التجا اسے اپنی التجا لگنے لگتی ہے،
اور یوں تمھاری غزلیں پلکتے جھپکتے اپنے قاری سے مضبوط رشتہ باندھ لیتی ہیں۔
تمھاری شاعری اندھیروں کے سامنے روشنی کی خاطر جہاد کرتی ہے،
تمھارا ہر مصرعہ، ہر شعر ایک دیپ ہے جو مخالف ہواؤں کے مقابل جلتا جلاجاتا ہے،
کبھی وہ تاریکی کے خلاف جلتا ہے،
کبھی مایوسی کے خلاف،
اور کبھی اپنی تنہائی اور دکھ کے خلاف۔
روشنی ہمیشہ جلنے کی قیمت ادا کرتی ہے،
شمع رات بھر پگھلتی ہے،
نجانے اپنے اندر کے کرب کی وجہ سے،
یا تقدیر کی ناانصافی کی وجہ سے،
یا وہ اندھیروں سے لڑتی ہے، شاید اس وجہ سے۔
رات گہری ہوگئی اور یوں لگتا یے تم دل کے افق پر ستارہ بن کے جگمگانے لگی
تمھارے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں
خدا کرے کہ تم ادب کے آسماں پر یوں ہی جگمگاتی ریو
جیسے میری کھڑی سے دکھائی دیتا یہ چاند اپنے جوبن پر ہے
کرب اور محبت کے حسین امتزاج سے گندھی شاعری بے شک دلوں میں خود بڑھ کر اپنی جگہ بنالیتی ہے
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
تحریر شعاعِ نُور لاہور
Leave a Reply