Today ePaper
Rahbar e Kisan International

(بامنی، چھپکلی کی خالہ)۔ (آسیب زدہ در)

Articles , Snippets , / Thursday, April 3rd, 2025

rki.news

پرانے گھر کی دیوار کے نیچے سانپ سپولیوں کی موجودگی ہم سب کے لیے تشویش کا باعث بن گئی۔ ابا نے ہمارے اطمینان کے لیے بتایا کہ تمام سانپوں کو مزدور اور میر صاحب نے ماردیا تھا لیکن اماں کی پریشانی کم نہ ہوئی۔ سانپ یا سانپن اگر زندہ ہوں گے تو بدلہ ضرور لیتے ہیں۔ ممکن ہے اس دن دونوں میں سے کوئی ایک کہیں چلا گیا ہو۔ یہ تمام اندیشے اٹھتے بیٹھتے اماں کی آنکھوں میں سرسراتے رہتے۔ آپا کی بیماری کے دوران پیر جی نے آسیب بھگانے کے لیے گھر کے کونے کونے کو کیل دیا تھا لیکن کیا آسیب کا سایہ واقعی اس گھر سے ہٹ گیا تھا۔ یہ سوال زبانوں سے زیادہ گھر والوں کے ذہنوں میں کُلبلاتا رہتا۔
ایک روز اچانک ماسی کمروں میں جھاڑو لگاتے ہوئے سانپ سانپ کہتی چیختی چلاتی باہر نکل آئی۔ اسوقت گھر میں بڑا کوئی نہ تھا۔ ماسی نے اماں کے کہنے پر کمرے کا دروازہ بند کردیا۔ ہم سب بھائی بھی اسکول گئے ہوئے تھا، ابا اور بھیا اپنے اپنے آفس۔ گھر میں مرد صرف میر صاحب (ملازم) تھے جو بس نام کے مرد تھے۔ بڑے بھیا جہاں نوکری کرتے تھے وہیں ان سے ملاقات ہوئی ستر پچھتر سال کی عمر تھی، گھر والے سب پاکستان ہجرت کرتے ہوئے ٹرین میں بلوائیوں کے ہاتھوں مارے جاچکے تھے۔ بھیا انہیں گھر لے آئے۔ ابا اماں بھی ان کی داستان سن کر دکھی ہوگئے ۔ ہمارا کمرہ (کوٹھری) ہم سے چھن گیا۔ ان کے لیے دلوں کے علاوہ اس ہرانے گھر میں اور کوئی جگہ نہ تھی۔
سانپ نظر آنے کی اطلاع میر صاحب ہی نے ابا کو آفس جاکر دی۔ ابا گھر پہنچے ساتھ ہی ڈنڈا بردار دو اور لوگ بھی تھے۔ کمرے کا دروازہ کھولا گیا، سانپ کی تلاش شروع ہوئی ۔ ہم بھی دور دور سے کوشش میں تھے کہ کچھ نظر آئے۔ اچانک وہ رہا، ادھر۔۔ مارو مت ، خود چلی جائے گی، رہ جائے تو اچھا ہے کی آوازوں کے ساتھ ہی لٹھ مار جوان اور ابا کمرے سے باہر آگئے۔ اس سانپ کی ایک جھلک مجھے نظر آئی تھی۔ نہایت تیزی سے چھپکلی کے برابر سرخ دم والی چمکیلی سی کوئی شے ایک کونے سے نکل کر کمرے کے دروازے کی چوکھٹ میں بنے سوراخ میں گھس گئی۔ بعد میں ابا نے بتایا کہ اس چھپکلی نما شے کو “بامنی” کہتے ہیں۔ یہ دولت کی نشانی ہے۔ جہاں نظر آئے اس گھر خزانہ ہوتا ہے۔ بےضرر ہوتی ہے ، اسے مارنا نہیں چاہیے۔ اس کے بعد پھر بامنی کسی کو نظر نہیں البتہ ماسی کو گھر میں خزانہ دفن ہونے کا یقین تھا۔ اماں سے کہا کرتی کہ سانپ وہیں ہوتے ہیں جہاں خزانہ دفن ہوتا ہے اور اب تو بامنی بھی بتاگئی۔ اسی کمرے میں ہے ۔ ایک روز اماں کو اس کمرے کے فرش پر پیر مار مار کر بتانے لگی کہ اینٹوں کا فرش تو ہے لیکن زمین “پولی” ہے سخت نہیں۔ پیر مارنے سے دھمک پیدا ہوتی ہے۔ اماں کو کچھ یقین آیا کچھ نہیں۔ ماسی کے جانے کے بعد میر صاحب سے لوہے کی بڑی سے سلاخ منگوائی۔ بمشکل فرش کے کھرنجے کی اینٹ اکھاڑی گئی۔ سلاخ ٹھوکنے پر آسانی سے زمین کے اندر گُھستی چلی گئی۔ سلاخ نکلوا کر اینٹ واپس جمادی گئی۔ میر صاحب سے کہہ دیا کہ کسی سے ذکر نہ کریں ابا سے بھی نہیں۔ دوسرے دن ماسی آئی تو کمرے کا دروازہ بند دیکھ کر پھر وہی راگ الاپنے لگی کہ ہندو ساہوکار، سیٹھ پاکستان سے بھاگتے وقت اپنا خزانہ بہت سے گھروں دکانوں میں چھوڑ گئے تھے سنا ہے وہ پیتل کے مٹکوں میں بہت سا سونا چاندی بند کرکے زمین میں دفن کرگئے ہیں۔ ساتھ ہی مٹی کے سانپ بناکر منتر پڑھ کر ان پر بٹھاگئے ہیں۔ اماں نے دوسرے دن ہی اس ماسی کو چلتا کردیا۔ ابا نے ان سب خرافات پر یقین نہیں کیا البتہ گھر تبدیل کرنے کا اماں کا مطالبہ مان لیا۔
بامنی پھر نظر نہیں آئی، ماسی بھی دوسری رکھ لی گئی اماں بھی کچھ مطمئین نظر آنے لگیں۔ دوسرا مکان ملنا مشکل تھا۔ یہ مکان ابا کو کلیم میں ملا تھا۔ اماں کے کلیم کے کاغذات جمع تھے۔ اس پر فیصلہ آنا تھا۔ ایک روز میں سامان والے کمرے میں گیا ، وہی کمرہ جہاں بامنی نظر آئی تھی اور پرانی ماسی نے خزانے کا شوشہ چھوڑا تھا۔مجھے ہلکی ہلکی چرچراہٹ کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز چھت کی طرف سے آرہی تھی۔میں ڈر کر باہر نکل آیا۔ کچھ دیر بعد پھر گی اخاص طور سے وہی آواز سننے کے لیے۔ آواز وقفے وقفے سنائی دیتی۔ شروع ہی سے میری چھٹی حِس زیادہ ہی تیز تھی۔ میں نے جلدی جلدی کمرے کا سامان نکالنا شروع کردیا اماں نے دیکھا تو ڈانٹنے لگیں یہ کیا ہورہا ہے۔میں نے کہا اماں کمرے کی چھت گرنے والی ہے آپ خود دیکھ لیں۔ اماں کمرے میں گئیں انہیں کچھ محسوس نہیں ہوا۔ جو تھوڑا بہت سامان نکالا تھا وہ رکھنے کا کہہ کر کام کاج میں مصروف ہوگئیں۔ میں جو چھوٹا موٹا سامان نکال سکتا تھا اپنی سمجھ کے مطابق نکالتا رہا۔ ابا آفس سے آئے تو بکھری ہوئی چیزیں دیکھ کر بہت غصہ کیا۔ مجھے ہی سامان واپس کمرے میں رکھنے کو کہا ۔اماں کو ترس آگیا میر صاحب سے کہہ کر چیزیں رکھوادیں۔ دو دن کے بعد سامان والے کمرے کی چھت نیچے آن گری۔ خزانے کے سانپ یا بامنی نے اپنا خزانہ مزید دفنادیا۔

“آسیب زدہ در”
گھر کے آسیب زدہ ہونے پر کسی کو یقین ہو یا نہ ہو مجھے پورا یقین تھا۔
میں نے کبھی کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کیا جو معاملہ میرے ساتھ پیش آتا رہا تھا۔ جب گرمیوں کے دنوں میں بارش ہوتی تو ہم سب اپنی چارپائیاں برآمدے کے دروں میں بچھا لیا کرتے تاکہ کچھ خُنکی محسوس ہوتی رہے۔میرے حصے میں جو در آتا اس میں آسیب کا سایہ تھا۔ وہاں سونے سے پہلے مجھے خوف آتا۔ پتہ نہیں کیوں میں کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا۔ سوتے سوتے میری آنکھ کھل جاتی، سر سے پاؤں تک عجیب قسم کی سنسناہٹ دوڑنے لگتی جسم لشت ہوجاتا میں اس بوجھ کے نیچے خود کو بے بس محسوس کرتا۔ جتنی دعائیں یاد ہوتیں پڑھتا رہتا اور نجانے کب یہ کیفیت ختم ہوجاتی میں سوچکا ہوتا۔ صبح یاد بھی نہیں رہتا۔ بارش بھی روز روز نہیں ہوتی تھی لیکن جب کبھی اس در میں چارپائی بچھتی تو اسی کیفیت سے دوچار ہوتا۔
ویسے بارش میں سونے کا الگ ہی لطف تھا۔ برآمدے کے در میں بان کی بُنی چارپائی بچھی ہوتی میں اپنا سر پائنتی کی طرف کرلیتا۔ بارش کے پانی کے چھینٹے جب سر، چہرے اور گردن پر پڑتے تو عجب سا سرور ملتا۔ ساری تھکن کہں جا سوتی۔ اسی کیفیت کو میں نے غزل کے اس شعر میں کچھ اس طرح سمویا ہے۔ آپ بھی لطف لیجیے:

“میں نے سرہانا دالان میں کرلیا، پائینتی چارپائی کی آنگن میں تھی
ناخنِ پا سے لے کر موئے سر تلک، رات رہ رہ کے برکھا برستی رہی” ( جاری ہے)


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International