rki.news
(آپ بیتی : قسط نمبر 22)
“ہمارے ہاتھ کے فریکچر کے پیچھے کس کا ہاتھ؟ ۔ آسیب زدہ مکان سے نئے مکان منتقلی۔ چھت کی کڑیوں میں جڑی آنکھیں”
ایک روز چھٹی کے دن میں باہر چبوترے پر بیٹھا پِلّوں (کتے کے چھوٹے چھوٹے بچے) کو روٹی ڈال رہا تھا کہ منجھلے بھائی نے اس کارِ خیر میں حصہ بٹانے کی کوشش کی اسی چھینا جھپٹی میں مابدولت چپوترے سے نیچے کتوں کے پلوں پہ جاگرے۔ پِلّے تو دُم دبا کر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے دوڑے تو دوڑے منجھلے بھائی نے بھی بجائے مجھے اٹھانے کے گھر کے اندر کی طرف دوڑ لگادی۔(حدِ ادب مانع اس لیے دُم دبا کر صرف پِلّوں ہی کے لیے استعمال کیا ہے)۔ نیچے گرنے سے میرے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور میں بڑی تکلیف سے حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ و پکار میں مصروف تھا۔ گلی سے گزرنے والے چند لوگ مدد کو آگئے۔ گھر میں سے بڑے بھیا اور میر صاحب بھی دوڑے آئے۔ اطلاع اندر پہنچ چکی تھی۔ پتہ نہیں ابا نے منجھلے بھائی کی گوشمالی کی یا نہیں لیکن ہمیں سول ہسپتال کے ڈاکٹر انصار نے خوب تختہء مشق بنایا۔ چھ ماہ کے لیے کہنی کے جوڑ سے کلائی تک پلاسٹر بندھ گیا۔ دوتین ماہ بعد ہی پلاسٹر سے ہماری دوستی ہوگئی۔ ایک طرف گھمانے سے پلاسٹر ڈھیلا ہوجاتا تو دوسری طرف گھما کر ہم پھر اسے کس لیتے۔ ہم نے پلاسٹر کو اپنا deposit locker بنالیا تھا۔۔ کیلشیم کی بڑی بڑی سفید ٹکیاں، پینسلیں ، سکے غرض ایسی ہی چھوٹی موٹی چیزیں اس میں ڈال کر دوسری طرف گھما کر کس لیا کرتے۔ چھ ماہ بعد جب پلاسٹر کاٹا گیا تو بہت سا مالِ غنیمت برآمد ہوا۔ سرجن بھی ہنس رہا تھا پلاسٹر کا یہ استعمال تو اس نے سوچا بھی نہ ہوگا۔
میر صاحب کا خیال تھا کہ بڑی آپا کی بیماری، سانپوں کا نکلنا، بامنی کا گھر میں نظر آنا، کمرے کی چھت کا گرنا اور ہمارے ہاتھ کا ٹوٹنا، ان سب واقعات کے پیچھے آسیب کا عمل دخل ہے۔ ابا اس قسم کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے تھے لیکن اماں فکرمند ہوجاتیں۔
کمرے کی چھت کا گرنا آسیب زدہ گھر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ ابا محکمہء اطلاعات میں تھے۔ مقامی اخبار والے خبر لےاُڑے۔ “انفارمیشن آفیسر کے آسیب زدہ گھر کی چھت نیچے آن گری”۔ ابا کو غصہ تو آیا لیکن ایک فائدہ یہ ہوا کہ اسی بنیاد پر اماں کے کلیم کا فیصلہ آگیا اور ہمیں نیا گھر محلہ علی مراد میں مل گیا۔ تھوڑے دن ریسٹ ہاؤس میں رہے اس کے بعد نئے مکان میں۔
سرد ابرآلود موسم میں جیسے اچانک دھوپ نکلنے کا فرحت بخش احساس ہوتا ہے ایسے ہی پرانے آسیب زدہ مکان میں منتقل ہوکر محسوس ہوا۔ حقیقتاً سب کچھ بدل گیا نہ کوئی دکھ نہ بیماری۔ نہ کسی آسیب کا خوف، نہ سانپوں کے پھنکارنے کا تصور نہ بامنی کا ڈر اور تو اور خزانے کے اوپر بیٹھے سانپ کا خیال بھی دور دور تک نہیں تھا۔
نیا مکان پختہ تھا۔ مکانیت تقریبا” پرانے مکان جتنی۔ نقشہ بھی وہی۔ کشادہ صحن ، سات دروں والا برآمدہ لیکن پرانے مکان کے اُس آسیب زدہ در کا تجربہ مجھے یہاں کبھی نہیں ہوا، برآمدے کے پیچھے بڑا سا ہال اور ہال کے عقب میں دو عدد کمرے۔
ہال کی چھت مضبوط لکڑی کی کڑیوں، موٹے موٹے شہتیروں پر ٹِکی ہوئی تھی۔ خاص بات شہتیروں کے سروں پر اندر کی جانب رنگین کاغذ کو ڈھانپے نقش و نگار والی جالی جڑی ہوئی تھی۔ روشنی میں جھلمل کرتی تو بہت اچھا لگتا۔ دوپہر یا رات میں سونے کے لیے میں لیٹتا تو اسے تکتا رہتا جب تک نیند نہ آجاتی۔ پتہ نہیں کب کسی ہندو سیٹھ نے یہ خوب صورت ڈیزائن بنوایا ہوگا اب وہ یا اس کی اولاد سرحد پار یاد کرکے دل مسوس لیتی ہوگی۔ ابا ، اماں بھی تو کبھی کبھی ہندوستان میں چھوڑے اپنے گھروں کو یاد کرکے ٹھنڈی سانسیں بھرا کرتے تھے۔
چند برس قبل یہی سوچتے ہوئے اپنے ملکی حالات کے پس منظر میں غزل کا یہ شعر ہوگیا:
ہ۔۔
چھت کی کڑیوں میں جو پُرکھوں کی جڑی ہیں آنکھیں
کہتی رہتی ہیں خموشی سے فسانہ گھر کا
(جاری ہے)
(فیروز ناطق خسروؔ)
Leave a Reply