rki.news
پارس کیانی
ساہیوال، پاکستان
عام رواج ہے کہ ہم صبح سویرے جاگنے پر یا کسی سے ملاقات کے وقت، کہیں صبح سویرے جانے پر مثلآ دفتر، کارخانہ، بازار جاتے وقت یا ساتھیوں سے ملتے وقت “صبح بخیر” کہتے ہیں۔
جس سے ہماری مراد یا تو یہ ہوتی ہے کہ خیر سے صبح ہو گئی ہے یا یہ کہ آج کی صبح بخیر گزرے یا صبح کے بخیر گزرنے کی دعا دیتے ہیں۔ اس کے بعد دوپہر آتی ہے تو ہم “دوپہر بخیر” (Good noon) کہتے ہیں۔مطلب دوپہر کا وقت چل رہا ہے ختم نہیں ہوا ابھی۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر سہ پہر ہوتی ہے تو ہم “سہ پہر بخیر” (Good after noon) اور جب شام ہوتی ہے تو “شام بخیر” (Good evening) کہتے ہیں.
اب باری ہے رات کی، یعنی مغرب کے بعد جب سورج ڈھل چکا ہوتا ہے, اندھیرا پھیل جاتا ہے، روشنیاں جل اٹھتی ہیں، تارے نکل آتے ہیں۔ چاند اسمان پر چمکنے لگتا ہے۔ اس وقت اگر ہم کسی سے ملیں بات چیت کا آغاز کریں، ٹیلی فون پر کریں، تحریری پیغامات کی صورت میں کریں یا کسی محفل میں جائیں، جب رات کا محض آغاز ہوا ہو تو ہم “شب بخیر” کیوں نہیں کہتے، یا اگر کوئی کہتا ہے تو سننے والوں کو بہت عجیب لگتا ہے بلکہ درست بھی نہیں لگتا جبکہ ایسا کرنا یا کہنا بالکل درست ہے۔
پہلے تو ہم “شب بخیر” کا مطلب جانتے ہیں:
شب کہتے ہیں رات کو، کالی، سیاہ، غروبِ آفتاب سے طلوعِ آفتاب تک کا درمیانی وقفہ اور بخیر کے معنی ہیں سلامتی سے، خیریت سے، بھلائی سے، خیر و عافیت سے ہیں۔
یہ ہم سب جانتے ہیں کہ دن کا مطلب دن ہے، دوپہر کا مطلب دوپہر ہے، سہ پہر کا مطلب سہ پہر ہے، شام کا مطلب شام ہے تو رات کا مطلب رات کیوں نہیں ہوتا؟
أئیے ہم جانتے ہیں کہ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے اور ایسا کرنا کہاں تک اور کیوں درست ہے؟
ہمیں جب بھی کسی قسم کی گفتگو کا آغاز کرنا ہو کسی محفل میں جانا ہو چاہے وہ ادبی محفل ہے، علمی ہے، مجلسی ہے، عائلی ہے، خاندانی ہے یا پیشہ ورانہ مجلس کا حصہ ہو۔
جب رات کا آغاز ہوا ہے اور دنیا جاگ رہی ہوتی ہے یا لوگ جاگنا چاہتے ہوں
یا پیشہ ورانہ زندگی میں لوگ رات کے فرائض ادا کرنے کے لیے کہیں پر متعین کیے گئے ہوں
کسی خاص رہائشی علاقے میں، عمومآ بڑے شہروں میں رات کو جاگنے کا رواج ہے
بہت سے گھروں میں، خاندانوں میں رات جاگنے کا رواج ہے
کچھ لوگوں کی مصروفیات اس طرح کی ہے کہ انہیں رات بھر جاگنا پڑتا ہے۔
جب رات أٹھ بجے کے آس پاس کسی بزم، کسی محفل کا حصہ بنیں اور حاضرین محفل کو “Good night یا شب بخیر” سے سلامتی پہنچائیں تو یہ کیسے غلط ہو سکتا ہے؟
اب یہاں پر یہ کہا جائے گا کہ اس کے لیے ہم “السلامُ علیکم” کہیں گے۔
اگر “السلامُ علیکم” سے کام چلتا ہے تو صبح بخیر، شام بخیر، دوپہر بخیر، اور سہ پہر بخیر کیوں کہا جاتا ہے اور رات سوتے ہوئے “شب بخیر (Good night)” کیوں کہا جاتا ہے؟
اس لیے کہ دن کے مختلف پہروں کے لیے الگ الگ الفاظ کے ساتھ سلامتی کی دعا دی جاتی ہے۔ باقی سارا دن میں یہ دعا پہنچا دی جاتی ہے “شب بخیر” میں تامل کیوں؟
شب کے آغاز میں “السلامُ علیکم یا آپ کا کیا حال ہے” سے گزارا کیوں کیا جائے؟ شب بخیر کیوں نہ کہا جائے؟
جب صبح بخیر ہو سکتی ہے تو شب بخیر کیوں نہیں ہو سکتی۔ صرف اس لیے کہ کسی ایک فرد نے کسی غلط وقت میں اسے بول دیا۔
شب بخیر جب بھی کہا جائے گا تو اس سے مراد یہ نہیں ہوگی کہ شب جو گزر چکی یا ختم ہو چکی یا “آخر شب” کو نہیں کہا جائے گا بلکہ شب کی اچھی ابتدا کے لیے دعا دی جائے گی۔ اس کے بعد سامنے والا شخص جاگے یا سوئے یہ اس کی مرضی۔ اس کے لیے شب بخیر کہہ دیا گیا۔
اگر رات سوتے وقت دعا دینی ہے تو اس سے زیادہ بہتر ہے کہ اس کو “نیند بخیر” کہا جائے اب وہ نیند دن کی ہو دوپہر کی ہو سہ پہر کی ہو شام کی ہو یا شب کی ہو اس سے فرق نہیں پڑے گا۔
پھر ایک بات یہ کہ اگر دن میں کسی کا سونے کا ارادہ ہو تو ہم ان کو کیا “دن بخیر” کہیں گے سہ پہر میں سونے کا اس کا ارادہ ہوگا تو ہم سہ پہر بخیر کہیں گے اگر کوئی شام کے وقت سونا چاہتا ہے تو ہم شام بخیر کہیں گے۔ اگر ہم ایسا کہیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے گفتگو کی ابتدا کی ہے انتہا کر کے کسی کو رخصت نہیں کر رہے۔
ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ زبان درست ابلاغ نیز رابطے اور تعلق کے لیے ایک وسیلہ کے طور پر کام کرتی ہے اگر زبان ایک ذریعے کا کام کرتی ہے ایک وسیلے کا کام کرتی ہے تو یہ سادہ سا مغالطہ ہمیں دور کر لینا چاہیے کہ زبان صرف وہ نہیں ہوتی جو بولی جا رہی ہوتی ہے یا لکھی جا رہی ہوتی ہے بلکہ اس میں لکھے یا بولے جانے والے الفاظ کے معنی و مطالب کا اگر ادراک ہو اور اس کے استعمالات پر قدرت ہو تو اپنے امکانی پہلو کی وجہ سے زبان وہ بھی ہوتی ہے جو لکھی جا سکتی ہے جو بولی جا سکتی ہے۔
Leave a Reply