Today ePaper
Rahbar e Kisan International

ثانیہ کے نام

Poetry - سُخن ریزے , / Tuesday, July 15th, 2025

rki.news

بس جاتی ہیں خوابوں میں جو کاجل بھری آنکھیں
پھر نیند اڑا دیتی ہیں میری ، تری آنکھیں

باقی نہیں رہتا ہے مجھے ہوش مہینوں
ہونٹوں سے ہی چھو لوں جو تری جام سی آنکھیں

تاریکی میں لگتے ہیں چمکتے ہوئے جگنو
آنکھوں سے ، مرے دل میں اترتی ہوئی آنکھیں

جو دیکھ لے اک بار ، وہ مر کر بھی نہ بھولے
شاداب سے چہرے پہ حسیں شربتی آنکھیں

جھیلوں سی ہیں ، خاموش تو ہرنوں سی ہیں چنچل
آئینے میں دیکھی بھی ہیں ، اپنی کبھی آنکھیں

جِھل مل کبھی کرتی ہوئی تاروں سی فضا میں
بھونروں سی دکھائی دیں کبھی سرمئی آنکھیں

رکھ کر کبھی ہاتھ ان پہ ، نہ جاؤں یہ قسم کھاؤں ؟
خائف ہیں بچھڑنے سے جو سہمی ہوئی آنکھیں

احساس غموں کا ، مجھے ہونے نہیں دیتیں
بچپن کی شرارت بھری ، یہ منچلی آنکھیں

**شاعرہ تمثیلہ لطیف


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International