rki.news
کالم: عشرت معین سیما
اس وقت دنیا بھر میں سیاسی ، معاشی اور ماحولیاتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے ہجرت کرنے والوں کے لیے نئے چیلنجز کا در کھول دیا ہے۔ اس حوالے سے جرمنی کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کافی میں خاصی بے چینی اورغیر یقینی دیکھی جارہی ہے۔ جس کے تحت رواں سال تئیس فروری کو ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ انتخابات سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے چانسلر اولاف شولز کی تین جماعتی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہوئے تھے۔
اس انتخابات میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو کے فریڈرش مرٹس نے نمایاں برتری حاصل کی، جبکہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی کے اولاف شولز کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی اور واضح طور پر انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے تارکین وطن اور مہاجرین میں مایوس کن غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
نئے انتخابی نظام کے تحت پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد چھ سو تیس مقرر کی گئی تھی، جس سے چھوٹی جماعتوں کے لیے پارلیمنٹ میں داخلہ مشکل ہو گیا ہے۔ اس نظام کی وجہ سے حکومتی اتحاد کی تشکیل مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر، جرمنی کو یوکرین کی جنگ اور امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جو ملک کی خارجہ پالیسی اور یورپی یونین میں اس کے کردار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، جرمنی کی سیاسی صورتحال غیر یقینی اور تغیر پذیر ہے، جس کے اثرات ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
جرمنی کی حکومت نے پناہ گزینوں، بشمول پاکستانی پناہ گزینوں، کے حوالے سے حالیہ برسوں میں مختلف اہم اقدامات کیے ہیں۔
جیسے کہ تمام پناہ گزینوں کو اپنے روزگار تک رسائی کے لیے آسانی دی گئی ہے۔ نومبر تئیس میں جرمن کابینہ نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کو ملک میں آمد کے تین یا چھ ماہ بعد کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ پہلے یہ مدت نو ماہ تھی۔ اس کا مقصد پناہ گزینوں کو جلد از جلد معاشی طور پر خود کفیل بنانا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کئی پناہ گزین کام کی اجازت کے بعد اپنے متعلقہ یا پسندیدہ شعبے میں بھی روزگار حاصل کر رہے ہیں کیونکہ اس وقت جرمنی میں روزگار کے مواقع بھی زیادہ ہیں جس کا فائدہ پناہ گزین حاصل کر رہے ہیں۔
دوسرے نمبر پر پناہ گزین پر کچھ مالیاتی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جس کے حوالے سے اپریل دوہزار چوبیس میں، جرمن پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے زیر پناہ کے درخواست گزاروں کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ کارڈز کے ذریعے محدود مالی فوائد دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کارڈ کے ذریعے وہ پناہ گزین اپنی بنیادی ضروریات کی اشیاء خرید سکتے ہیں، لیکن انہیں بیرون ملک رقم بھیجنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کا مقصد اُن غیر قانونی تارکین وطن کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو اپنے خاندانوں کو رقوم بھیجنے کے لیے جرمنی آتے ہیں۔ جرمنی کا فلاحی نظام مضبوط ہونے کی وجہ سے یہاں پناہ کے متلاشیوں کو رہائش، بنیادی صحت کی سہولیات اور ماہانہ مالی امداد ملتی تھی جس میں اب یہ ادائیگی محدود ہو چکی ہے۔ یہ اقدامات عمومی طور پر پاکستانی پناہ گزینوں سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے تمام پناہ گزینوں پر لاگو کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تمام سلسلے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی پناہ کی درخواست منظور ہو جائے تو اسے مستقل رہائش اور بعد میں شہریت حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ایسی صورتحال میں جرمنی کی جانب پناہ کی تلاش میں آنے والوں کی جانب سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اُن کے لیے جرمنی اب بھی ایک اچھا انتخاب ہے؟
اس سوال کے جواب کا انحصار کافی حد تک پناہ گزین کی انفرادی صورتحال اور ضروریات پر منحصر ہے۔ جرمنی اب بھی پناہ کے متلاشیوں کے لیے ایک پرکشش ملک سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ پالیسی تبدیلیوں اور عوامی رائے میں تبدیلیوں کے باعث یہاں کچھ چیلنجز بھی پیدا ہوئے ہیں۔
جیسا کہ جرمنی میں سیاسی پناہ کے قانون کی پالیسی سخت بنائی جا رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے جرمنی نے غیر ضروری پناہ کی درخواستوں کو مسترد کرنے اور غیر قانونی رہائشیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے۔اس کے علاوہ پناہ گزینوں کے خلاف عوامی ردعمل بھی منفی انداز میں بڑھتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔جرمنی کےکچھ علاقوں میں خاص طور پر انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں پناہ گزینوں کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب امیگریشن پراسیسنگ کی رفتار بھی بہت سست ہے ۔
وفاقی محکمہ برائے سیاسی پناہ گزین میں اسائلم کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے میں کئی ماہ یا بعض اوقات سال لگ جاتے ہیں جس دوران پناہ گزین محدود حقوق کے ساتھ رہتا ہے اور اسے جرمن معاشرے میں ضم ہونے ، کام کاج کرنے یا سیکھنے کے ساتھ ساتھ زبان سیکھنے کے لیے بھی محدود کردیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجوداگر کسی پناہ گزین کے پاس مضبوط کیس ہے جیسا کہ وہ سیاسی ظلم و ستم یا جنگ زدہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تو جرمنی میں اس کے لیے پناہ لینے کے چانس موجود ہیں اور یہ ملک اس کا ایک معقول انتخاب ہو سکتا ہے۔ تاہم، جو لوگ معاشی وجوہات کی بنا پر آ رہے ہیں یا جن کے کیس کمزور ہیں، ان کے لیے پناہ حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیاء سے آنے والے ممالک کے پناہ گزین زیادہ تر اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے معاشی پناہ گزینوں کو جرمنی آنے سے پہلے اپنی مخصوص صورتحال کو مدنظر رکھ کر غور کرنا ضروری ہے کہ آیا یہ واقعی جرمنی اُن کے پُر سکون اور کامیاب مستقبل کے لیے بہترین انتخاب ہے یا نہیں ۔
Leave a Reply