rki.news
عامرمُعانؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم جنریشن زی سے تعلق نہیں رکھتے، تو کیا جنریشن زی یعنی جینزی سے پہلے والی جنریشنز کے لوگوں پر اب سوچنے کی پابندی لگ گئی ہے؟ یا وہ مجبور ہیں کہ وہ سوچیں جو جینزی چاہتے ہیں کہ سوچا جائے؟ غور کیجئے کیا یہ ہماری ہی جنریشنز ایکس اور وائے نہیں ہیں، جنہوں نے جینزی کو بومرز سے آزاد ہو جانے کے مواقع فراہم کئے۔ جینزی کو اب حاصل تمام سہولیات کی طرف سفر کا آغاز ان ہی جنریشنز نے کیا تھا؟ یہ ہماری ہی جنریشنز کی سوچ تھی کہ کس طرح دنیا کو بام عروج کے سفر کی طرف تیزی سے لے کر جانا ہے۔ آج جب جینزی اپنے سے پہلے والوں کی سوچ پر ہنستے ہیں، تو اصل میں پہلے والی جنریشنز ان پر ہنس رہی ہوتی ہیں اور دل ہی دل میں کہہ رہی ہوتی ہیں کہ
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
ان کو زباں ملی تو ہمیں پر برس پڑے
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی کی سوچوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، لیکن یہ فرض کر لینا کہ صرف وہ ہی درست سوچ سکتا ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کبھی درست راستہ نہیں پا سکتا۔ صلاحیتوں کے اظہار پر ہر جنریشنز کو برابر کا حق حاصل ہے۔ وہ سب اپنے مطابق سوچ کر فیصلے کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ غلط فیصلے اور درست فیصلے کرنے کے لئے کسی مخصوص جنریشنز سے تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ دماغ کے درست استعمال کی ضرورت ہے، وگرنہ اب تک دیکھا یہی گیا ہے کہ اکثر جینزی جس سوچ کو اپنی سوچ سمجھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں، وہ سوچ دراصل ان سے پہلے والی جنریشنز ان کے ذہن میں ڈال کر ان کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ بات پھر وہیں آ جاتی ہے، کہ کون سی جنریشن ذہنی استعداد کے مطابق درست وقت پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب اب تک تو یہی ملا ہے کہ پچھلی جنریشنز ایکس اور وائے نے یکدم دنیا کی بھرپور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی سوچوں کو عملی جامہ پہننانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ جینزی ابھی تک اس طرح تیزی سے سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ جینزی ایک مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔ وہ خود کو سیدھی سچی بات برملا کہنے کے دعویدار ضرور ہیں، لیکن وہ ابھی تک کسی اصول کے مطابق مستقل مزاجی سے عمل پیرا نظر نہیں آتے، وہ اصول نہیں بلکہ نظریہ ذاتی پسند ناپسند کے تابع نظر آتے ہیں، اور اسی اصول کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقلمندی سمجھتے ہیں۔ جینزی اگر اپنے مخالف کی ایک بات پر غلط کے فیصلے صادر کرنے میں سیکنڈ نہیں سوچیں گے، تو دوسری طرف اپنے من پسند افراد کے لئے اسی غلط بات پر توجیہات پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جینزی جب یہ حرکت کرتے ہیں تب بومرز ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں، کیونکہ یہ طریقہ تو بومرز کا رائج کردہ طریقہ ہے۔ وہ ہی بومرز جن کو جینزی پرانے خیالات کا کہہ کر رد کرتے نظر آتے ہیں؟ چند ایک مثالوں کو چھوڑ کر جینزی کی اکثریت نے اب تک خود کو قابل اعتبار ثابت نہیں کیا ہے۔ وہ پچھلی جنریشنز کی تمام برائیاں اپنے اندر سمو کر ہی آگے بڑھ رہی ہے۔ سوائے اپنے اظہاریہ میں بے باک ہونے کے، جس میں وہ دوسرے کی دلیل کو یکسر مسترد کر کے گالم گلوچ کا راستہ اختیار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی، جو پچھلی جنریشنز کا خاصہ ہرگز نہیں تھا۔ وہ اب بھی ان خیالات کا ہی پرچار کرتی ہے جو جنریشن ایکس نے دنیا کو دئیے تھے، لیکن ساتھ ہی وہ ان کو دقیانوسی بھی قرار دینا چاہتی ہے؟ وہ نفسیات ، فلسفہ ، تاریخ و دیگر مضامین میں تاحال پرانی جنریشنز کے کئے ہوئے کام کے ہی مرہون منت ہیں، وہ ان کی تقلید سے نکل نہیں سکے ہیں۔ جینزی کی پہلی نسل جو 1997 سے شروع ہوئی تھی۔ اب خود جنریشن الفا کے والدین بن چکے ہیں۔ تو کیا وہ اگلی جنریشن الفا کو بھی پچھلی جنریشنز کی کامیابیاں اپنے نام سے بتاتے رہیں گے؟ زیادہ تر جینزی تاحال صرف باتوں کے شیر ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ بہت زیادہ معلومات رکھنے کے باوجود ابھی تک ان ہاتھوں کے کھلونے بنے ہوئے ہیں جو بومرز یا ایکس جنریشن سے تعلق رکھتے ہیں۔
وہ نفسیات پڑھیں تو اسی جنریشنز کے محتاج ہیں، فلسفہ پڑھیں تو اسی جنریشنز کے محتاج ہیں، اور سیاست میں تو ابھی تک اسی جنریشنز کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں ہیں۔ آخر جینزی خود کس نظریہ کو درست سمجھتی ہے؟ جینزی جیسی بہترین جنریشن کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ اصولوں کیساتھ کھڑے ہوتے، اور پرانی جنریشنز کو ثابت کرتے کہ زندگی اصولوں پر بھی گزاری جا سکتی ہے، لیکن وہ ابھی تک منافقت کیساتھ زندہ رہنے کو ہی اصول سمجھنے لگے ہیں۔ اپنے نظریے کی غلط بات بھی درست، اور دوسرے نظریے کی درست بات بھی غلط کا منافقانہ اصول۔ جناب جینزی یہی اصول تو بومرز آپ کو سکھانا چاہتے تھے۔جس کی روک کے لئے جنریشن ایکس اور وائے آپ کو بہتر بنانا چاہتے تھے۔ جس کی وجہ سے جنریشن ایکس اور وائے نے آپ کو بے باک بنایا تھا کہ آپ بغیر لگی لپٹی اپنی بات کہہ سکیں۔ وہ آپ کو ایک ایسی دنیا دینا چاہتے تھے جس میں جیسے وہ بومرز کے ہاتھ کھلونا بنے رہے آپ نہ بن سکیں۔ وہ اپنی جدوجہد میں ایک نئی دنیا تو آپ کو دے سکے، لیکن شائد زیادہ تر جینزی کو نہ اخلاقیات سکھا سکے اور نہ ہی بومرز سے بچا سکے ۔ شائد جینزی کی پروان چڑھتی نسل ان سے بہتر طور پر دنیا کو نئے پیغام دے سکے گی۔ شائد پرانی صدی سے چھٹکارہ حاصل کرنے والی الفا جنریشن دنیا کو واضح پیغام دے سکے کہ حق پر جو بھی ہو وہی درست ہے پھر چاہے وہ مخالف ہو یا من پسند ۔ تب بات صرف اصولوں پر طے ہو سکے گی۔
جینزی ہمیں آپ پر یہ فخر ضرور ہے کہ آپ ببانگ دھل اپنی بات کہہ سکتے ہو۔ کاش دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی ہم آپ کو حاصل ہو جائے۔ تب آپ سب سے بہترین جنریشن ہوں گے۔
Leave a Reply