Today ePaper
Rahbar e Kisan International

جوانوں کو میری آہِ سحر دے

Articles , Snippets , / Sunday, January 18th, 2026

rki.news

تحریر: فخرالزمان سرحدی (ہری پور)
پیارے قارئین!
زندگی کی سب سے طاقتور اور روشن امید نوجوان نسل کے سینے میں دھڑکتی ہے۔ جوش، جذبہ، ولولہ اور خود اعتمادی جو جوانوں کے دلوں میں موجزن ہے، ہر معاشرت اور قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر فکری، ادبی اور سماجی رہنما کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کرے، ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرے اور خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ عطا کرے۔
نوجوانوں کی طاقت کا ادراک بے حد ضروری ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عہدِ حاضر کے مسائل کا حل نوجوانوں کے عزم، علم اور جذبے میں پوشیدہ ہے۔ ان کے خواب اور سوچ ہی معاشرتی ترقی اور قومی تبدیلی کی بنیاد بنتے ہیں۔ تاہم یہ طاقت اسی وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب اسے درست سمت، مثبت فکر اور واضح مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ اسی لیے بزرگ، دانشور اور رہنما اپنی عمر بھر کی بصیرت نوجوانوں کو “آہِ سحر” کی صورت عطا کرنا چاہتے ہیں — ایک ایسی روشنی جو اندھیروں میں راستہ دکھائے۔
آہِ سحر محض شعری استعارہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے۔ یہ نوجوان کے دل میں حوصلہ، استقلال اور امید کی شمع روشن کرتی ہے۔ یہ انہیں سکھاتی ہے کہ مشکلات سے گھبرانا نہیں بلکہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرنا ہے۔
بقول شاعر؎
“ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا”
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان علم حاصل کریں، مثبت رویہ اپنائیں اور قوم و معاشرت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں۔ آہِ سحر وہ نور ہے جو خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کی قوت بخشتا ہے۔ موجودہ حالات میں نوجوانوں کی درست رہنمائی معاشرتی ترقی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
جب بزرگ اپنی زندگی کے تجربات اور حکمتیں نوجوانوں کے سامنے رکھتے ہیں تو یہ ان کے لیے عملی درس بن جاتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ مسائل سے ڈرنا نہیں بلکہ ان کا حل تلاش کرنا ہے، اصولوں پر قائم رہنا ہے اور مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔
آہِ سحر کا ایک اہم پہلو علم کی قدر و منزلت اجاگر کرنا بھی ہے۔ جب نوجوان تعلیم، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں تو معاشرے میں حقیقی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ علم اور شعور نوجوانوں کو مضبوط کردار، مثبت سوچ اور خدمتِ خلق کے جذبے سے آراستہ کرتے ہیں۔
عصری چیلنجز
آج کا نوجوان ایک تیز رفتار اور پیچیدہ عالمی ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا، ثقافتی یلغار، معاشرتی دباؤ اور غیر متوازن مواقع ان کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ آہِ سحر دینے والے رہنما نوجوانوں کو یہ شعور دیتے ہیں کہ یہ چیلنجز خوف کا سبب نہیں بلکہ مواقع ہیں، جنہیں علم، مثبت سوچ اور حوصلے سے فتح کیا جا سکتا ہے۔
وطن سے محبت
جوانوں کو دی جانے والی آہِ سحر کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے وطن اور معاشرے کے لیے بھی کارآمد بنیں۔ جب نوجوان قوم اور ملک کی خدمت کو اپنا نصب العین بنا لیتے ہیں تو یہی جذبہ قومی بقاء اور معاشرتی ترقی کی اصل ضمانت بنتا ہے۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ
“جوانوں کو میری آہِ سحر دے”
محض ایک فقرہ نہیں بلکہ ایک فکری پیغام اور قومی ذمہ داری ہے۔ نوجوان وہ روشن چراغ ہیں جو معاشرت کے اندھیروں میں روشنی پھیلا سکتے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں علم، حوصلہ، اصول اور خدمتِ خلق کی روشنی پیدا کر دی جائے تو وہ اپنی زندگی، قوم اور معاشرت کے لیے حقیقی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International