rki.news
“حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے”(الفلق۔5)اسلام نے حسد کو ایک شر کہا ہےاور اسی سے بچنےکا حکم دیا ہے۔ حسد کے معنی ہیں کسی کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا.حاسد سمجھتا ہے کہ کسی دوسرے کو ایک نعمت دے کر اللہ تعالی نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے،یعنی وہ اللہ پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے۔اس لیے اسلام نےحسد کو ایک گناہ کہا ہے۔حسد کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور ایک دوسرے سے نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔حسد سے انسان اپنے ایمان کو بھی کھو دیتا ہے۔قرآن حکیم میں یہودیوں کے حسد کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے کہ وہ حسد کی وجہ سےقرآن کا انکار کر بیٹھے اور یوں ایمان کی دولت سے محروم رہ گئے۔قرآن حکیم میں آتا ہے”انہوں نے اپنی جانوں کاکیا برا سودا کیا کہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر رہے ہیں،محض اس حسد میں کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (وحی)نازل فرماتا ہے۔پس وہ غضب در غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے یہ ذلت آمیز عذاب ہے”(البقرہ۔ 90)تصور کیا جائےکہ حسد کتنا بڑا گناہ ہے کہ حسد کی وجہ سےاللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر دیا۔یہود چاہتے تھے کہ نبوت بنی اسرائیل میں رہے،یوں حسد کا شکار ہوکر اللہ کی رحمت سے دور ہو گئے۔حسد سےبچنے کا حکم اللہ تعالی نے بارہا دیا ہے،کیونکہ حسد کی وجہ سےفتنہ فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ایک اور جگہ پر اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے”یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں،اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سےدیا تو ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا”(النساء۔54)اللہ تعالی نے درج بالا آیت میں وضاحت سے سمجھایا ہے کہ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے، اپنے فضل سے نواز دیتا ہے،لیکن کچھ لوگ نہیں سمجھتےاور وہ حسد شروع کر دیتے ہیں۔حاسد سمجھتے ہیں کہ جو نعمت یا خوبی کسی دوسرے انسان کو ملی ہے اس سے ضائع ہو جائےیامجھےمل جائےیا کسی قوم کو جو نعمت عطا ہوئی ہے ان سے چھن جائے۔حاسد حسد کی وجہ سے ہر وقت پریشانی کا شکار رہتا ہےاور حسد کی وجہ سے کسی پل اس کو سکون نہیں آتا۔
کافی احادیث میں بھی حسد کے بارے میں سمجھایا گیا ہے کہ حسد ایک روحانی بیماری ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےحسد کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ایک حدیث کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو،نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھو اور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ”(مسلم)درج بالا حدیث میں حسد کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔حسد کی وجہ سےایک دوسرے سے قطع تعلق پیدا ہو جاتا ہےنیز ساتھ ہی بغض اور دشمنیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔دشمنیاں اور نا اتفاقی کسی بھی معاشرے کو تباہ کر دیتی ہیں۔حسد کے اور بھی کئی نقصانات ہیں،جو حاسد کو اٹھانے پڑتے ہیں۔حسد انسان کی نیکیوں کو بھی ختم کر دیتا ہے۔حدیث کے مطابق”حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے”(ابو داؤد)ایک اور حدیث کے مطابق،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں”آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا حسد سےبچو،کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے”(ابو داؤد)درج بالا احادیث سےعلم ہوتا ہے کہ حسد کتنا بڑا گناہ ہے۔حسد کی وجہ سے شیطان کولعنت کا طوق گلے میں ڈالنا پڑا۔کئی انسان حسد کی وجہ سےذلیل و خوار ہوئے۔حسد کرنے والا کبھی خوش نہیں رہ سکتا۔حسد کی وجہ سےانسان اللہ سے مایوس ہو جاتا ہےاور مایوس انسان ہمیشہ نقصان اٹھاتا رہتا ہے۔ایک اور حدیث میں تو وضاحت کی گئی ہے کہ”کسی شخص کے دل میں حسد اور ایمان اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے”(سنن نسائی)
اللہ کے نیک بندے بھی حسد سےخود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ان نیک لوگوں کا مشن یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی محبت لوگوں کے دلوں میں جگا دی جائے تاکہ حسد ختم ہو جائے،صرف حسد ختم نہ ہو بلکہ بغض، قطع تعلق اور دوسری روحانی بیماریاں بھی ختم ہو جائیں۔امام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں”حسد اس لیے بڑا گناہ ہے کہ حسد کرنے والا گویا اللہ پر اعتراض کر رہا ہے کہ فلاں آدمی اس رحمت کے قابل نہیں تھا،اس کو یہ نعمت کیوں دی؟آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اللہ پر کسی قسم کا اعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہے”(احیاء علوم)امام غزالی کے مطابق حسد کرنے والا اللہ تعالی پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے۔حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں”جو دل حب دنیا کی ظلمت میں گھرکر خطرات شیطانی اور ہوائے نفس کی آماجگاہ بن چکا ہو،اس پر اللہ کی نگاہ رحمت نہیں پڑتی اور جس دل پر اللہ تعالی کی نگاہ رحمت نہ پڑے وہ سیاہ وگمراہ ہو کرحرص وحسد وکبر سے بھر جاتا ہے۔حسد کے باعث قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا۔حرص نےحضرت آدم علیہ السلام کو گندم کا دانہ کھلا کربہشت سے نکلوایااور کبر نے ابلیس کو مرتبہ لعنت پر پہنچایا۔جو دل خانہ ہوس بن جاتا ہے وہ ہر وقت حرص و حسداورکبروغرور سے پر رہتا ہے اور کمینی دنیا کی خاطر پریشان رہتا ہے”(عین الفقر)دوسری جگہ حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں”ضروری ہے کہ تو نفس و شیطان اور دنیا کو بھول کر اپنے قلب اور روح کو اللہ کے ذکر میں اس طرح غرق کر دے تاکہ تو ہر وقت عشق ومحبت الہی اور اسرار الہی کا مشاہدہ کرتا رہےاور تیرے وجود میں حرص،حسد، کبروہوا اور شہوت کا نام و نشان باقی نہ رہے”(عین الفقر)
حسد سے بچنا چاہیے کیونکہ حسد انسان کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔حسد سے بچنے کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے،کیونکہ حاسد دوسروں کے ساتھ خود کے لیے بھی نقصان کا سبب بنتا ہے۔توبہ بھی کرنی چاہیے،کیونکہ توبہ اور مغفرت طلب کرنا اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔اس بات کی کوشش کریں کہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کریں۔اللہ کی تقسیم پر راضی رہنےکی کوشش کریں،یعنی رضائے الہی پر راضی رہنا چاہیے۔حسد کی تباہ کاریوں پر غور کرنا چاہیے۔اپنی خامیوں پر بھی نگاہ کرنی چاہیے۔دوسروں کو جو نعمتیں اور خوبیاں ملی ہوئی ہیں،ان کو اللہ کی حکمت سمجھ کر شکر گزار ہونا چاہیے اور اپنی نعمتوں پر بھی شکر کرنا چاہیے۔نفرت بھی حسد کو بڑھاوا دیتی ہے،لہذا نفرت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔دوسروں کو خوش دیکھ کر خود بھی خوش رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالی کا ذکر اور خشیت الہی سے بھی حسد سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔موت کو یاد کرنا بھی حسد کو دور کرتا ہے۔اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ دوسروں کی نعمتوں پرحسد نہ کیا جائے۔
Leave a Reply