Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

خودبدلتے نہیں۔۔

Articles , Snippets , / Tuesday, January 6th, 2026

rki.news

مراد علی شاہد دوحہ قطر
اکثر آپ نے کتب التواریخ،اہل فکر ودانش سے یہ کہتے سنا اور پڑھا ہوگا کہ سقراط نے کہا،ارسطو نے لکھا یا امام رازی ومولانا روم فرماتے ہیں لیکن ہم نے کبھی بنظر عمیق،دقیق گہرائی میں نہیں سوچا ہوگا کہ یہ تمام اہل فکرو دانش یا فلسفی و مذہبی کس کے لئے اور کیوں اپنے مشاہدات بیان کرتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے جن کے سینہ میں اپنی اپنی قوم کی اخلاقی گراوٹ اور پستی کردار کا دکھ تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے ارد گرد بسنے والے جیتے جاگتے لوگ جانوروں کا سا رویہ اپناتے ہوئے ایک دوسرے کا سر قلم کرتے دکھائی دیں یا اخلاقی گراوٹ کا اس قدر شکار ہو جائیں اکہ انہیں خیر وشر کے علاوہ رشتوں کی پہچان بھی نہ رہے۔اسی جرم کی پاداش میں کسی کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا تو کسی کو تختہ دار پر مصلوب کردیا گیا،کسی کے ہاتھ میں معافی نامہ تھما کر دنیا کے چرچ میں با آواز بلند یہ کہہ کر پڑھایا گیا کہ تم نے جو لکھا یا شائع کروایا وہ سب مبنی بر صداقت نہیں تھا بلکہ فتور وانتشار تھا۔ان سب کے باوجود حق وصداقت پر کوئی قدغن نہ لگ سکا اور نہ ہی ایسے دانشوروں کی آواز کو دبایا جا سکا الٹا ان کی شہرت کو بام عروج ہی نصیب ہوا۔لیکن حیف ہے ایسے افراد پر جو زندگی بھر یہ محسوس نہیں کر پاتے کہ یہ سب کن کے لئے ہے۔علامہ اقبال نے جب مثنوی پس چہ بایدکرد اے اقوام مشرق کا جب پروفیسر آرنلڈ نے اسے پڑھ کر علامہ اقبال کو مخطوطہ تحسین لکھا تو اقبال اپنے دوست سید گیلانی کو وہ خط دکھاتے ہوئے نم دیدہ ہو جاتے ہیں،پوچھنے پر فرمانے لگے کہ گیلانی دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ جس قوم کے لئے میں نے لکھی ہی نہیں وہ پڑھ رہے ہیں اور جو قوم مخاطب ہے انہیں کوئی فکر دامن گیر ہی نہیں۔
اور یہ کوئی دور حاضر کا مسئلہ نہیں ہر دور میں ہوتا آیا ہے اور نہ جانے کب تک ہوتا رہے گا۔کہتے ہیں کہ مسیحوں کے زوال کے زمانہ میں دو پادری اپنی خانقاہ میں بیٹھے شدت سے بحث کر رہے تھے کہ گھوڑے کے منہ میں دانتوں کی تعداد کتنی ہوتی ہے ایک پادری کہہ رہا تھا کہ بائبل کے مطابق اتنے ہوتے ہیں جبکہ دوسرا کہہ رہا تھا کہ نہیں بائبل کے ہی مطابق اتنے ہوتے ہیں۔ان دونوں کی بحث جب زوروں پہ تھی تو قریب سے گزرتے ہوئے ایک سادی دیہاتی نے کہا کہ بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟
گھوڑے کا منہ کھول کر گنتی کر لیتے ہیں
یہ لمحہ فکریہ ہمارے ان نام نہاد دانشوروں اور تاریخ دانوں کا ہے جو اس بات پر شب و روز بحث فرماتے ہیں کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے،جمہوری۔اسلامی یا سیکولر۔اور ہر کوئی اپنی اپنی بات منوانے اور درست ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کی قلابیں ملاتا دکھائی دیتا ہے۔حالانکہ کہ یہ سوال کتابوں سے نہیں پاکستان کی پچیس کروڑ عوام سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟
ایسا پاکستان کہ جس میں ہر پاکستانی فرد کی بجائے خر اور منتظم خرکار،یعنی بوجھ لادنے والا اور بوجھ اٹھانے والا۔
میں نے زندگی کی پانچ دہائیاں گزار لی ہیں،بچپن سے پچپن تک یہی سنتے آئے ہیں کہ ہماری تنزلی کی بڑی وجہ گزری حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیاں تھیں اب دیکھئے گا کہ ہمارا ملک کیسے معاشی ترقی کی اونچی اڑان بھرتا ہے۔اس اونچی اڑان میں طبقہ اشرافیہ نے ترقی کی ہو تو کی عوام کا حالت زار دن بہ دن روبہ زوال ہی رہی،اور اس میں کبھی بھی میں نے حکومت،پالیسی،نااہلی یا بین الاقوامی بدلتے حالات کو قصوروار نہیں ٹھہرایا بلکہ ہمیشہ ایک ہی خیال ذہن میں موجزن رہا کہ ہم خود کیوں نہیں بدلتے اگر اشرافیہ اپنے آپ کو بدل رہی ہے تو ہمیں بھی اپنی حالت زار کو بہتر کرنا چاہئے ان کے برابر نہیں تو کم از کم اتنا تو کر لیں کہ آنے والی ایک نسل معاشی بے فکری میں اپنے حالات کو مزید بہتر کر لے تاکہ ان کی آنے والی نسل کا معیار زندگی زمانہ کے مطابق ہو پائے۔ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہم بقول اقبال
خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ ہم ایک عجب قوم ہیں اتنے عجیب کہ بس،ہمارے سامنے آئینہ ہو تو ہم منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں کہ ہمیں اپنا ہی چہرہ اس میں نہیں دیکھنا،جبکہ کسی دوسرے شخص میں ذرا سی بھی برائی نظر آجائے تو فتوی صادر کرنے سے ذرا بھی گریز پا نہیں ہوتے،ہیں دنیا کو بدلنا ہے،نظام اور نصاب کو بدنا ہے،حتی کہ موسم کو بھی اپنے مطابق بدلنا ہے،گویا سب بدلنا ہے ماسوا اپنے آپ کے۔یہ بھی آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ زمانہ خراب ہے،معاشرہ تنزلی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔نوجوان نسل روز بروز بگڑتی چلی جا رہی ہے،مگر اس کی وجوہات نہیں بتاتے یا غور نہیں فرماتے کہ اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ استاد اب مخلص نہیں رہے،والدین لا پرواہ ہو گئے ہیں،معاشرہ کرپٹ ہوگیا ہے مگر اس بات پر کبھی غور نہیں کرتے کہ ہم کیا ہیں یا کھلے الفاظ میں ہم اپنا گریبان جھانک کر نہیں دیکھتے کہ اس میں کتنے چھید ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ تبدیلی آئے مگر دوسروں میں،ہم چاہتے ہیں معاشرتی اقدار میں بہتری آئے مگر ہمیں نکال کر،ہم چاہتے ہیں معاشرہ میں انصاف کا بول بالا ہو مگر ہمارے خلاف کوئی نہ بولے۔ہم اگر واقعی ملک و قوم میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں کود کو پہلے بدلنا ہوگا،پھر دیکھئے گا زمانہ بدلا بدلا سا محسوس ہوگا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International