حیات ، نام ہے دشوار رہ گزاروں کا
ہے امتحان کڑا ، ہم سے غم کے ماروں کا
اجڑ گئے ہیں بسیرے کئی پرندوں کے
قدم قدم پہ نئے روپ ہیں درندوں کے
وہ پھول ، رنگ ہے جس میں نہ کوئی خوشبو ہے
وہ لفظ جس میں کوئی سحر ہے نہ جادو ہے
یہ دن تو رات کی مانند ہو گئے میرے
اکیلے پن کے سہارے بھی کھو گئے میرے
ردا میں شب کی ، نہ اب چاند ہے نہ تارے ہیں
کوئی تو آس دلائے کہ ‘ ہم تمھارے ہیں ‘
مرے خدا ! میں تری قدرتوں کی قائل ہوں
تری قسم ، نہ میں مایوس ہوں نہ بد دل ہوں
خنک ہواؤں سے آنگن کو میرے تر کردے
مری امید کی ڈالی کو با ثمر کردے
مرے خیال کو اک خوش نما حوالہ دے
حسین خواب کا آنکھوں کو بھی اجالا دے
سفر میں راہ نما کوئی تو ستارہ ہو
کسی نظر میں شناسائی کا اشارہ ہو
کوئی تو پھول سے تتلی کو روشناس کرے
کوئی تو ہو کہ مجھے عام سے جو خاص کرے
کوئی دھنک مری چنری میں ٹانک دے لا کر
کوئی رباب کے تاروں کو چھیڑ دے آ کر
کوئی کلی ہی سجا دے اداس زلفوں میں
کوئی تو ہاتھ بڑھائے گھنے اندھیروں میں
فسردہ حال کو آسودگی نصیب کرے
کوئی تو ہو جو بجھی زندگی میں رنگ بھرے
زباں پہ آئے کوئی نام بے دھیانی میں
کوئی تو موڑ نیا آئے اس کہانی میں
کوئی تو حرف ہتھیلی پہ مہندیوں سے لکھوں
کوئی تو ہو ، جسے بے ساختہ میں اپنا کہوں
رہا نہ آنکھ میں اک خواب بھی اگر زندہ
تو کیسے ڈھونڈے گی تعبیر کوئی تمثیلہ
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply