رپورٹ:اشعر عالم(جے آرمیڈیا)
ادبی و ثقافتی تنظیم “شہ نشین ” کے زیرِ اہتمام ایک شام بہ نام محترمہ فاطمہ زہرا جبین و عفت مسعود صاحبہ منعقد کی گئی۔مجلس کے صدور جناب ارشاد حسین قمر وارثی ، ممتاز صاحب ِ اسلوب شاعر جناب رونق حیات (چیئرمین نیازمندانِ کراچی) اور راشد حسین راشد(کینیڈا سے تشریف فرما) منعقد کی گئی۔
مہمانان ذی وقار میں شامل جناب ڈاکٹر افتخار احمد ملک ایڈووکیٹ،طارق جمیل،سید اقبال(براڈ کاسٹر و حمد ونعت خواں)مسعود وصی اور سید نعمان حسن ایڈووکیٹ تھے ۔
نظامت کے فرائض(تنویر سخن) اور ہما ساریہ نے ادا کیئے۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ ربانی سے بابرکت آغاز کرنے کے بعد حمدِ باری تعالٰی پیش کرنے کے لئے نعت خواں ہما ناز صاحبہ کو دعوت دی ۔ جبکہ مدحتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، شانِ رسول مکرم میں مدح سرائی کا شرف مہوش فراز نے حاصل کیا۔
سہ نشستی ادبی تقریب جس کا اول دورانیہ موضوعِ گفتگو تھا : ” بڑھتی ہوئی شعری نشستیں ادب کی ترقی یا تنزلی”
صدرِ شہ نشین سید مقبول زیدی نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور موضوعِ گفتگو پر اپنے خدشات اور پھر مثبت پہلووں پر روشنی ڈالی اور اسے آئندہ آنے والی نسلوں کے اسے خوش آئند قرار دیا موضوع گفتگو پر افضل شاہ نے اپنا مقالہ پیش کیا۔اور کثرتِ شعری نشست اور ادبی محافل کی بڑھتی ہوئی رفتار کے منفی پہلوؤں کو نمایاں کیا۔تنویر سخن موضوعِ گفتگو پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی شعری نشستیں ادبی ذوق و شوق کو جلا بخشنے ، ترویج و ترقی کا باعث بن سکتی ہیں ایسی ادبی تقاریب کو صحت مند معاشرے کے لیئے پرسکون ماحول پیش کرسکتی ہیں۔
افتخار احمد ملک ایڈووکیٹ، سید اقبال ،اور دیگر
مقررین کے علاوہ مہمان شاعرہ محترمہ فاطمہ زہرا جبیں اور صدرِ مشاعرہ جناب رونق حیات نے بھی اس موضوع پر ایک مثبت گفتگو کی اور اس کی حمایت میں رائے دی ۔ ایک صحت مند گفتگو ، مثبت رویوں کے ساتھ گفتگو کا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔
پروگرام کا دوسرا مرحلہ کینیڈا سے تشریف فرما دبستانِ کینیڈا کی چیئرپرسن محترمہ فاطمہ زہر جبیں اور ان کے نصف بہتر محترم انوار علی صاحب باکو آذر بائیجان سے تشریف فرما محترمہ عفت مسعود صاحبہ اور ان کے نصف بہتر جناب مسعود وصی کے اعزاز میں رکھی محبتوں بھری ادبی شام تھی جس میں ان کی تحسین و تکریم گفتگو، تحائف یش کرنے کی رسم شامل تھی۔پروفیسر مشتاق مہر (جنرل سیکرٹری شہ نشین) نے استقبالی خطاب دیا مہمانانِ ِ اعزاز کو خوش آمدید کہا ۔ جملہ شرکائے محفل کی آمد پر اظہارِ مسرت کیا ۔ محترمہ فاطمہ زہرا جبین صاحبہ ،محترم انوار علی ، محترمہ عفت مسعود صاحبہ محترم سید مسعود وصی کو گلدستے پیش کیئے گئے ۔ مقبول زیدی ، ہما ساریہ ، تنویر سخن ، پروفیسر مشتاق مہر ، اور دیگر احباب نے پھولوں کے تحائف مہمانانِ اعزاز اور مہمانانِ ذی وقار کو پیش کیئے ۔ ہما ساریہ صاحبہ جو کہ سینیئر نائب صدر شہ نشین ہیں مہمانوں کو تحائف پیش کئے جس کے بعد مہمانوں کی جانب سے بھی تحائف کا تبادلہ ہوا۔
تیسرا دورانیہ شعری نشست کا تھا۔جس کی نظامت کرتے ہوئے نظامت کار تنویر سخن نے مجلسِ ِ صدور کی اجازت سے بحیثیت ناظمِ مشاعرہ کلام نذرِ محفل کیا ۔ اور پھر بالترتیب شعرائے کرام کو دعوت ِ سخن دی گئی۔ جن شعراء نے کلام پیش کیا ان میں
ہماساریہ،پروفیسر مشتاق مہر،محمد رفیق مغل، ڈاکٹر افتخار احمد ملک ایڈووکیٹ، سلمیٰ رضا سلمیٰ،گل افشاں،اشعر عالم عماد،پروفیسر ڈاکٹر عطیہ حسن، سید اقبال (مہمانِ ذی وقار)،سید افسر علی افسر، مقبول زیدی (میزبان ِ محفل)،افضل شاہ ،حمیدہ کشش، شاہد اقبال شاہد،امتیاز الملک آسی سلطانی،نور شمع نور،راشد حسین راشد ،عفت مسعود،فاطمہ زہرا جبین،رونق حیات(رکنِ مجلسِ صدور)ارشاد حسین قمر وارثی (سینیئر صدرِ محفل)،راشد حسین راشد خطبۂ صدارت جناب رونق حیات نے دیا ۔ جملہ مہمانانِ مسند نشینان و شرکائے محفل کو مخاطب کرتے ہوئے میزبانِ محفل سید مقبول زیدی و ہما ساریہ کی تحسین کی ۔ کینیڈا سے تشریف فرما بیگم و انوار علی اور باکو آذر بائیجان سے تشریف فرما بیگم و مسعود وصی کی آمد پر دلی مسرت شادمانی کا اظہار کیا ۔ کامیاب اور بھر پور سہ دورانیہ تقریب کی تحسین کی ۔ اور شعری نشست میں نذرِ محفل کیئے جانے والے کلام کی تعریف کی۔پرگرام میں جن معززین نے شرکت کی ان میں
جناب ساجد صاحب (ایڈمنسٹریٹرعیسیٰ لیب)،جناب فاروق اعظم عرشی،بیگم و فرخ جعفری(بانی قرطاسِ ادب)،ہما ناز ،فرحانہ شیخ اور دیگر شرکائے محفل شامل تھے پروگرام کے اختتام پر پرتکلف طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔a
Leave a Reply