rki.news
کبھی رشتوں میں پیار تھا
ہر دل دوسرے پہ نثار تھا
دلوں میں روشنی بسی رہتی
ہر ایک چہرہ ہی پُر وقار تھا
نہ مفاد کی دھند چھائی
ہر تعلق ہی بے غبار تھا
سخن میں خلوص بولتا
ہر کسی کا لہجہ اعتبار تھا
دل میں نہ کوئی حساب رکھتا
محبتوں کا ہی کاروبار تھا
ساتھ چلتے تھے جو عمر بھر
وہی ہر موڑ پر غمگسار تھا
نہ وقت اتنا خود غرض تھا
نہ انسان یوں شرمسار تھا
روٹھ بھی جائے کوئی لمحہ
منانا اُس کو افتخار تھا
پھر وقت نے لی یوں انگڑائی
ہر اک رشتہ بوجھ سا بار تھا
کہاں ڈھونڈو گے وہ دن اب معین
جب دل بھی اپنا یار تھا
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply