rki.news
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
ہوا میں مہکتی ہوئی صورت تھے
نہ آئینہ ہم سے کبھی سوال کرتا
ہم خود ہی اپنی تعریف کی صورت تھے
ہر خواب نگاہوں میں زندہ تھا
ہم وقت کی پہلی ضرورت تھے
نہ خوفِ شکست، نہ فکر فردا
ہم حوصلۂ تازہ کی صورت تھے
ہر لفظ زبان سے سچ نکلتا تھا
بات کے ہی نہیں، زبان کے بھی خوبصورت تھے
نہ تنہائی ڈستی تھی دل کو
محفل کی لازمی صورت تھے
پھر وقت نے چپکے سے بدل ڈالا
ہم کل کی خبر، آج کی حسرت تھے
اب خود کو ڈھونڈیں خاموشی میں
ہم کبھی اس دنیا کی صورت تھے
معین وہ دن اب مجھے یاد آئے
جب ہم بھی کسی کی مورت تھے
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply