rki.news
مصنفه : محترمه تمثيله لطيف صاحبه
اگر پہلا مجموعہ ہجراں اور اداسی کا پیکر ہے تو دشت میں دیپ جلئے امید ، خود آگاہی اور باطنی روشنی کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہاں شاعرہ اپنے دکھ سے باہر آکر اس دکھ کو روحانی تجربے کی صورت دیتی ہیں۔ دشت یعنی تنہائی کے صحرا میں وہ اپنے ہی اندر کے دیے جلاتی ہیں۔ گویا یہ سفر خود سے خود تک کا ہے۔
میرا میرے سوا نہیں کوئی پھر بھی لب پر گلہ نہیں کوئی
عنوان بذات خود علامتی ہے۔ دشت عام طور پر ویرانی اور بے نوری کی علامت ہے ، مگر یہاں دیپ جلنے کا ذکر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاعرہ نے اپنے دکھ کو خلیقی روشنی میں تبدیل کرلیا ہے۔ ۔ !!
تیز بارش ہے ہوا ہے اور میں ہاتھ پر جلتا دیا ہے اور میں
تمثیلہ کی شاعری کانمبر زندگی کے سر دو گرم اور دھوپ چھاؤں سے اٹھا ہے، جس میں ایک طرف دھنگ رنگ جذبوں کی سرشاریاں معاملات عشق کی رمز شناسیاں خواہشات کی خوش رنگ پریاں اور خوش گمانیوں کی تازہ ہوائیں ہیں تو دوسری طرف خلوص کا آبشار انسان دوستی کی چاندنی زمین کی سوندھی سوندھی مہک، ماحول آشنائی کا ادراک اور رجائیت کی ترنگ بھیجے ، ان تمام لوازمات سے ہم آہنگ ہو کر ان کی شاعری دلچسپ تخلیقی واقعات کی نمود بن گئی ہے۔۔ !!
لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں میں بھی آنکھوں میں خواب رکھتی ہوں
عنوان دشت میں دیپ جلے اپنے اندر گہر ا علامتی مفہوم سموئے ہوئے ہے۔۔ دشت: یہ لفظ شاعرہ کی ذاتی زندگی میں موجود کرب، تنہائی مایوسی ، اور جدائی کی کیفیت کی علامت ہے۔ یہ غم جاناں اور غم دوراں دونوں کی سونی اور ویراں فضا کو ظاہر کرتا ہے۔
دیپ جلے بینیم کی تاریکی میں امید ،مثبت سوچ ، رشتہ ناطے کی محبت، اور احساس زندہ دلی کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شدید ترین مصائب اور تنہائی کے باوجود شاعرہ نے زندگی سے اپنا تعلق نہیں تو ڑا۔ یہ مجموعہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعرہ نے اپنے درونی غم کو صرف بیان نہیں کیا، بلکہ اس پر غالب آنے کی کوشش بھی کی ہے۔ اسلوب اور لھجے کی خصوصیات
یہ مجموعہ تمثیلہ لطیف کے سادہ، سلیس اور دل کو چھو لینے والے اسلوب کا بہترین نمونہ ہے ، شاعری کا لہجہ بجز ، انکسار اور نرمی
سے بھرا ہوا ہے۔ وہ اپنے غم کو ایک شکوے کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک معصومانہ آہ وزاری کے پیرائے میں بیان کرتی
ہیں، جس میں دردمندی کا عنصر بہت زیادہ ہے۔
تصوف اور روحانیت کی جھلک
بعض ناقدین نے ان کی شاعری میں تصوف اور روحانیت کی جھلک دیکھی ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب غم ہجراں، غم دنیا سے ماورا ہو کر ایک غیر مادی سطح پر چلا جاتا ہے، جہاں محبوب کی یا دہی ایک عبادت بن جاتی ہے۔ اگر چه بیشتر غز لیس داخلی احساسات کی ترجمان ہیں، مجموعے کی نظموں اور غزلوں میں سماجی شعور اور معاشرتی مسائل کی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ خاص طور پر برصغیر کی عورت کے کرب، جذباتی وابستگیوں اور زندگی کے روایتی بوجھ کی عکاسی
بھی کی گئی ہے۔
غزلوں کا تنقیدی تجزیہ
اسلوب وقتی ساخت
غزلوں اور نظموں کا تحقیقی امتیاز
تمثیلہ لطیف کی غزلیں روایتی اردوغزل کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہیں ،مگران میں جدید شعور کی رمق ہے۔ بحر، ردیف ، قافیہ کی پابندی کے ساتھ ساتھ اشعار میں روانی اور موسیقیت موجود ہے۔
موضوعاتی وسعت
محبت ہجر ، تنہائی ، خودی ، سماجی ناہمواری ، نسائی شناخت ، اور داخلی کرب جیسے موضوعات کو شاعرانہ پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ تمثیلہ کے اشعار نسائی محرومی اور داخلی کرب کی ترجمانی کرتے ہیں، مجموعہ میں شامل نثری نظمیں تمثیلہ لطیف کی فکری وسعت اور تخلیقی آزادی کی نمائندہ ہیں ، بیا نیہ انداز ، علامتی زبان ، اور داخلی مکالمہ ان نظموں کی خاصیت ہے۔ علامتی و استعاراتی زبان
غزلوں میں صحرا، دیپ ، دشت، موسم ، چاند ، شام جیسے علامتی الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جو جذبات کی شدت اور فکری گہرائی کو جاگر کرتے ہیں۔
فکری جهات
تمثیلہ نے دشت میں دیپ جلے میں تخلیقی اظہار ، اور نسائی وجود کے پیچیدہ پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ وقت، وجود اور انسانی شعور کے فلسفیانہ پہلوؤں کو شعری پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔
اسلوبیاتی خصوصیات
تمثیلہ لطیف کی غزلیں روایتی اردو غزل کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہیں ،مگر ان میں جدید حسیت اور نسانی تجربات کی جھلک نمایاں ہے، زبان میں سادگی اور شعریت کا امتزاج ہے، جو قاری کو جذب کر لیتا ہے۔ غزلوں کا مرکزی خیال وہی تنہائی اور جدائی ہے، جو انسان کو اس کائنات میں بے سہارا ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ سنجیدہ اور مختصر بحر غزلیں اکثر مختصر اور روایتی بحروں میں ہیں، جن سے ایک نغمگی اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ بلیت شاعرہ کومختصر الفاظ میں بڑے سے بڑا مفہوم ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
نثری نظموں میں شعری جمالیات کے ساتھ ساتھ فکری تجزیہ بھی موجود ہے۔ نظموں میں سوالیہ انداز ، داخلی کرب، اور وجودی سوالات کی جھلک نمایاں ہے ، دشت میں دیپ جلے میں شامل کلام نہ صرف شاعرہ کی فکری جہات کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اردو ادب میں ان کے مقام کو بھی واضح کرتے ہیں۔ یہ مجموعہ کئی اہم نظمیں رکھتا ہے، مثلاً عہد ، مقدر، خواب’، ‘ماں ‘ موت، اور جانے کھو گئے کہاں مرے بابا’ نظموں میں خاندانی تعلقات جیسے والدین اور خواب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شاعرہ کی ذات صرف محبوب کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ اس کی فکری پرواز معاشرے اور خاندان کی طرف بھی مائل ہوتی ہے۔ ”ماں یا بابا جیسی نظموں کے ذریعے شاعرہ نے اپنا دشت تنہائی والدین کی یادمیں بسائے ہوئے دیپوں سے روشن کیا ہے۔ ان نظموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور رشتوں کی اہمیت کو بھی محسوس کرتی ہیں۔
نسائی شعور اور تخلیقی احتجاج
تمثیلہ لطیف کی شاعری نسائی شعور کی ترجمان ہے۔ وہ عورت کے جذبات محرومیوں، خوابوں اور خودی کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرتی ہیں۔ ان کی شاعری میں نسائی احتجاج ، خود اعتمادی ، اور سماجی شعور کی جھلک نمایاں ہے۔ اختتامی کلمات
تمثیلہ لطیف کی شاعری جدیدار دو ادب میں عورت کے داخلی جہان کی ایک روشن دستاویز ہے۔ ان کے دونوں مجموعے کوئی ہم سفر نہیں اور دشت میں دیپ جلے اور دو احساس بصداقت ونرمی ، اور خودشناسی و عشق کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے دکھ کو نغمہ، تنہائی کو عبادت، اور ہجر کوروشنی میں بدل دیا ہے۔ ادبی روایت میں وہ ایک ایسی شاعرہ کے طور پر ابھرتی ہیں جو جذبات کے بیان میں وقار ، صداقت اور فنی قرینہ برقرار رکھتی ہیں۔ ان کے اشعار نہ صرف عورت کے احساس وجود کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ انسانی روح کی گہرائیوں تک پہنچتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ تمثیلہ لطیف نے اپنے قلم سے ثابت کیا ہے کہ دشت چاہے کتنا ہی سنسان ہو ، اگر دل میں ایمانِ عشق باقی ہے تو وہاں دیے ہمیشہ جلتے رہتے ہیں۔ دشت میں دیپ جلے صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری سفر ہے، جو قاری کو جذبات ، خیالات اور سوالات کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ تمثیلہ لطیف کی شاعری اردو ادب میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے، جس کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے۔
Leave a Reply