Today ePaper
Rahbar e Kisan International

{“ساتویں جماعت پہلا شعر، اماں کا ہنستے ہوئے تبصرہ “صاحبزادے امیر خسروؔ ہوگئے ہیں”۔ کون سی چیز تین بجے جلوہ دکھانے والی تھی؟}

Literature - جہانِ ادب , Snippets , / Thursday, March 27th, 2025

rki.news

رسالوں کتابوں سے ہمارا رومانس ہوش سنبھالتے ہی شروع ہوگیا تھا۔ اماں کہانیاں سناتیں۔ سونے سے پہلے سب کاموں سے فارغ ہوکر ہم چھوٹے بہن بھائی اماں کے پلنگ پر گھس بیٹھتے۔ سب کی خواہش ہوتی کہ اماں کا کندھا اس کی ٹیک بنے۔ اسی کشمکش میں جب اماں کی ڈانٹ کے ساتھ ہی یہ دھمکی کہ بس کوئی کہانی وہانی نہیں جاؤ جاکر سوجاؤ تو سب لڑنا بھڑنا بھول کر متوجہ ہوجاتے۔ کہانی ہمیشہ ایک بادشاہ اور ملکہ سے شروع ہوتی۔ پریوں ، پریزادوں، دیوؤں جنوں کا ذکر، درمیان میں ایک شہزادہ ضرور ہوتا اڑن کھٹولے پر بیٹھ کر پرستان جاتا۔۔اسی دوران نیند سے بوجھل پلکوں کے ساتھ باری باری ہم بھائی بہن اپنے بستروں کی جانب ہانک دیے جاتے۔ نیند میں کہانیوں کے تمام کردار گڈمڈ ہوتے رہے۔
اردو کی کتاب کی ساری کہانیاں اور نظمیں ہمیں چند روز ہی میں ازبر ہوجاتیں۔ کبھی کبھی کلاس میں اپنی قابلیت جتانے کے لیے بیچ میں بولنا مہنگا پڑ جاتا۔
ساتویں جماعت میں آئے تو ہماری اردو اپنے دوسرے بھائیوں سے نسبتا” اچھی تھی۔
اماں ہمیں سلیٹ پر املا لکھوایا کرتیں تو منجھلے بھیا کے مقابلے میں ہماری غلطیاں کم ہوا کرتیں جس پر منجھلے بھیا جو غصے کے تیز بھی تھے لڑ پڑتے۔ اکثر ہم ان کے ڈر سے دانستہ اپنے درست الفاظ بھی غلط کر دیا کرتے۔
ابا کے آفس سے دفتری شام کو بہت سے اخبارات لاتا۔ ابا تو رات میں کسی وقت ان پر کام کرتے لیکن ہماری دلچسپی قسط وار چھپنے والی کہانیاں تھیں۔ جیسے امروز اخبار میں “نیلو کے آنسو” یا ہفتے کے ہفتے بچوں کا صفحہ۔ منجھلے بھیا زیادہ تر کھیل کود میں مصروف رہتے۔ ہمیں جیب خرچ نہیں ملتا تھا بلکہ اس نام کی کسی شے سے آگاہی بھی نہیں تھے۔ ابا کا کہنا تھا کہ پیسے دینے سے بچے خراب ہوجاتے ہیں۔ جو چاہیے اپنی ماں سے کہو منگوادیں گی۔ مجھے کہانیوں کی لت پڑ گئی تھی۔ محلے میں “پیسہ لائبریری” بھی تھی لیکن پیسے نہیں ہوتے تھے۔ اماں سے ضد کرکے ہفتے دو ہفتے میں کچھ پیسے مل جاتے۔ کہانی کی کتابیں سستی تھیں۔ تھوڑے سے پیسوں میں مل جاتی تھیں۔ چند صفحات کی کتاب اک دو آنے کی۔ رسالے البتہ مہنگے تھے۔ عید بقرعید پر یا کبھی کبھار کوئی رشتہ دار باہر سے آتا تو وہ جاتے وقت پیسے ضرور دے کر جاتا۔ البتہ ہم جماعت دوستوں سے کہانی کی کتابوں کا لین دین جاری رہتا۔
میں نے ساتویں جماعت ہی میں اپنا پہلا شعر کہا۔ گھر میں مشاعرے ہوتے تھا۔ خیرپور کی ادبی فضا بہت پُر فضا تھی۔ بڑے مشاعروں کے علاوہ گھروں میں شعری نشستیں بھی ہوتی تھیں۔ مجھے یہ تو پتہ ہی تھا کہ شعر کیا ہوتا ہے۔ لیکن نہ غزل نظم کے فرق کا پتہ تھا نہ مطلع مقطع کی سدھ بدھ۔
ایک روز موسم بہت اچھا تھا۔ صبح اسکول جانے کی بجائے چھت پر پتنگ اڑانے کو دل کرتا تھا۔ کھیتوں سے گزر کر اسکول جاتے ہوئے آسمان پر قلابازیاں کھاتے، موسم کی دلکشی کا لطف اٹھاتے پرندے اور زمین پر لہلہاتے کھیتوں کی نگاہوں کو ٹھنڈک پہنچاتی ہریالی نے دل پر ایسا اثر کیا کہ بے ساختہ یہ شعر موزوں ہوگیا:

ہوا میں یہ اُڑتے پرندوں کے جھنڈ
کتنے آزاد ہیں، کتنے مختار ہیں

اسکول سے گھر آتے ہی اماں کو سنایا۔ اماں نے کوئی خاص توجہ نہ دی بہت اچھا کہہ کر اپنے کام میں مصروف ہوگئیں۔ تمام دن اس شعر کا سرور طاری رہا۔ دل چاہتا تھا سب کو سناؤں۔ ہم سے چھوٹے دو بھائی ایک بہن جنہیں اس کا شعور ہی نہ تھا کہ شیر کے علاوہ بھی کوئی شعر ہوتا ہے۔ دو بڑے بھائی اور ایک بہن ، ان کی اپنی مصروفیات۔ میں اس روز اپنی رف کاپی میں جگہ جگہ یہ شعر لکھتا رہا ساتھ ہی اڑتے پرندے بنانا تو بہت آسان تھا۔ قینچی کی شکل کی دو لکیروں کو ملادیا دو نقطتے اِدھر اُدھر لگادیے آنکھیں بن گئیں۔
شام کو ابا آفس سے آئے تو ان کے سامنے وہی کاپی رکھ دی۔ بجائے کچھ پوچھنے کے ڈانٹنے لگے، صفحے کے صفحے گندے کردیے لکھ لکھ کر کوئی تمیز بھی ہے۔ پرندوں کی تصویریں ڈرائنگ کاپی میں بنایا کرو۔ اماں نے ہنستے ہوئے کہا صاحبزادے “امیر خسرو” ہوگئے ہیں۔ ابا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اماں اور پھر میری طرف دیکھا۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے فخریہ انداز سے کہا ابا میں نے یہ شعر بنایا ہے۔ اس بار ابا کا لہجہ زیادہ سخت تھا ، شعر میز کرسی نہیں جو بنایا جائے شعر کہا جاتا ہے یا موزوں کیا جاتا ہے۔ پھر گویا ہوئے ابھی تمہاری عمر صرف پڑھنے پڑھانے کی ہے اسی طرف دھیان دو، یہ کہتے ہوئے ابا نے کاپی ہماری طرف بڑھادی اور اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔ برابر سے بڑی آپا کی کھی کھی کے ساتھ ہی گنگناہٹ سنائی دی “اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی” کچھ نہ سمجھتے ہوئے پیر پٹختے، روہانسا ہوتے ہم نے بھی اپنے ” کمرے” کا رخ کیا۔
ہمارے پرانے گھر میں بڑا سا صحن تھا۔ صحن میں ایک قطار میں بیت الخلا (لیٹرین)، غسل خانہ، باورچی خانہ اور باہر کے دروازے کےساتھ ہی چھوٹی سی کوٹھری جس میں ہر الا بلا ٹھونسی ہوتی اسی میں ہم نے اپنے لیے بھی جگہ بنالی تھی یہی ہمارا کمرہ تھا۔ بقول سحر انصاری “

“فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے در میں نے
کسی بھی بابِ رعایت سے میں نہیں آیا”

صحن کے پیچھے سات دروں والا برآمدہ ، برآمدے کے عقب میں بڑا سا ہال اور ہال سے جُڑے دو کمرے۔ ایک ابا اماں کا اور دوسرا اسٹور کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

دوسرے بھائیوں کے برعکس ہم زیادہ باہر نہیں جاتے تھے۔ اسکول سے گھر اور گھر سے اسکول۔ دوست احباب بھی نہیں تھے نہ خواہش۔ بس کہانیوں کی کتابوں ہی سے دوستی تھی۔ اماں ابا ہماری اس عادت سے بہت خوش تھے۔

(برسوں بعد بھی ہماری طبیعت میں فرق نہیں آیا۔ سلام دعا سب سے لیکن دوست وہی کتابیں، رسالے اور شاعری).
آج بھی ہم اپنے اسی کوٹھری نما کمرے میں اداس بیٹھے تھے۔ بڑے بھیا کالج سے آئے تو بڑی آپا نے سارے واقعے سے انہیں آگاہ کیا۔ بھیا کچھ دیر بعد ہمارے پاس آگئے، کاپی اٹھا کر شعر پڑھا بہت تعریف کی ساتھ ہی بولے تیار ہوجاؤ ایک بہت اچھی جگہ چلنا ہے۔ ہمیں یہ سن کر جیسے کرنٹ لگ گیا۔ ایسا موقع کبھی کبھار ہی نصیب ہوتا تھا جب ابا یا بڑے بھیا ساتھ لیجاتے۔ اور بھیا کا یہ کہنا کہ “ایک بہت اچھی جگہ چلنا ہے” میرے اشتیاق کو دو چند کرگیا۔ نہ”شعر یاد رہا نہ شیر”۔ ابا کی ناگواری کا تاثر یکسر زائل ہوچکا تھا۔ ہم بڑے بھیا کی سائکل پر خیرہور کے چھتری والے چوک پہنچ کر ایک بڑی سی عمارت کے دروازے کے سامنے تھے جس پر پڑا بڑا سا تالہ ہمارا منہ چِڑا رہا تھا۔ بھیا نے سائیکل اسٹینڈ پر کھڑی کرتے ہوئے کہا ابھی تین بجنے میں تھوڑی دیر ہے، انتظار کرلتے ہیں۔۔۔۔ انتظار کس چیز کا؟ ہم بڑی بے چینی سے تین بجنے اور اُس چیز کا انتظار کرنے لگے جو تین بجے اپنا جلوہ دکھانے والی تھی۔(جاری ہے)


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International