Today ePaper
Rahbar e Kisan International

ساگ،دال چاول اور شامی کباب

Articles , Snippets , / Friday, January 30th, 2026

rki.news

تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
اسد نے جونہی سکول سے واپس آ کے گھر کی دہلیز عبور کی تواسے اپنے صحن میں لوگوں کا ایک جم غفیر نظر آیا جو ہرے ہرے خوشبو دار ساگ جسے باقاعدہ طور پر دیسی گھی کا تڑکا لگایا گیا تھا، مکءی کی خستہ روٹیوں کے ساتھ دعوت اڑاتا ہوا نظر آیا،اسد نے دور ہی سے ایک نگاہ بد اس دعوت شیراز سے فیض یاب ہونے والے جم غفیر پہ ڈالی اور ناک سکیڑی، ساگ اسے کھانے میں کبھی بھی پسند نہ تھا اور اس کے گھر والے اسے باقاعدہ طور پر ساگ کا نام لے لے کر چڑاتے تھے،جب بھی گھر میں ساگ بنتا، اسد بیچارہ یا تو بھوکا ہی سو جاتا اور اگر اس کی ماں گھر پہ ہوتی تو وہ اپنے لاڈلے کے لاڈ اٹھانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی.کبھی آلو والے پراٹھے، کبھی مولی والے پراٹھے کبھی آلو انڈے تو کبھی قیمے والے نان، پتا نہیں یہ مایں اپنے بچوں کے دل رجھانے کے لیے ہر طرح کے جتن کرنے سے باز کیوں نہیں آتی ہیں؟تھکی ہاری ہوں، بیمار ہوں، بھلے درد زہ کی چبھن سے مری جا رہی ہوں، بستر مرگ پہ ہی کیوں نہ ہوں, اپنے بچوں کے من بھاتے کھاجے بنانے سے اپنے آپ کو باز رکھ ہی نہیں سکتی ہیں اور یہی ماں کی وہ انمول محبت ہے جس کا متبادل پوری دنیا میں کہیں بھی ڈھونڈے سے نہیں مل سکتا. اسد کو اچھی طرح یاد تھا, بچپن میں وہ جب بھی سکول سے واپس آتا ماں کے ہاتھ کی بنے ہوے تازہ، گرما گرم پھلکے، دھنیے پودینے کی چٹنی، اور سالن کھانے کے لیے ہاتھ دھونے کے فوراً بعد چوکی چولہے کے پاس ہی رکھ کے بیٹھ جاتا تھا، ماں جو کچھ بھی بناتی تھی وہ ذایقہ بن جاتا تھا، ایسا ذایقہ جو نہ بھولنے والا سواد بن کے یادداشت کی پیشانی پہ تا حیات نقش ہو جاتا ہے اور انسان اس ذایقے اور سواد کی کھوج میں ساری عمر مارا مارا پھرتا رہتا ہے مگر نہ وہ ذایقہ ملتا ہے نہ ہی سواد اور انسان مارے خفت کے، بس یہ ہی کہہ کے دل کی تسلی کر لیتا ہے کہ جیسا کھانا میری ماں بناتی تھی ویسا کھانا کوی نہیں بنا سکتا اور یہ فقرہ بغیر کسی بھی حرف کی تبدیلی کے دنیا کی ہر زبان میں بولا جانے والا مقبول عام فقرہ ہے ،ہر انسان بلاتفریق و رنگ و نسل وجنس کوی اور بات دعوے سے کر ے یا نہ کرے یہ بات دعوے سے ضرور کرتا ہے کہ میری ماں جیسا کھانا پوری دنیا میں کوی اور اور نہیں بنا سکتا. تو اسد کو اچھی طرح یاد تھا کہ اسے بچپن میں بھنڈی اور ساگ دونوں سے ایک عجیب سی چڑ تھی مگر جب بھی گھر میں یہ دونوں سالن بنتے ماں چپکے سے اس کے لیے کبھی دال چاول بنا دیتی اور کبھی شامی کباب، آج اسد کا بارہویں جماعت کا آخری پرچہ تھا وہ پرچہ دے کے جلدی سے ہی گھر پہنچ گیا تھا، وہ واپس آتے ہی ماں کو اپنے پرچے کے اچھے ہونے کے بارے میں بتانا چاہتا تھا مگر ماں تو کہیں دکھای ہی نہ دے رہی تھی، گھر میں اندر باہر لوگ ہی لوگ تھے، جب بات اسد کی سمجھ سے باہر ہو گءی تو اس نے گھر سے باہر نکل کے ہمسایوں کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، ہمسایوں کی عورت نے سر باہر نکالا اور جب اسد کو دیکھا تو اس کے چہرے پہ ایک عجب سے حزن و ملال نے جگہ لے لی، خالہ جی میری امی؟ اسد نے ہچکچاتے ہوے اپنی ماں کی بابت سوال کیا، اس عورت نے ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوے جب اسد کو بتایا کہ تمہاری ماں کو تو آج صبح تمہارے جانے کے بعد ہارٹ اٹیک ہوا، جو کہ جان لیوا ثابت ہوا، اسد کے تو مانو دنیا ہی اندھیر ہو گءی، وہ ماں جو اس کے دل کی بات بنا کہے ہی جان لیتی تھی اسے بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر جا چکی تھی. وہ ماں جو اس کے لیے طرح طرح کے پکوان تیار کرتی تھی، جامد و ساکت پڑی تھی، اب وہاں کوی نہیں تھا جو ساگ اور بھنڈی کے بجائے اسے دال چاول اور شامی بنا کر کھلاتا.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International