تیرے الفاظ گہر بن کے اُتر جاتے تھے
شعر میں ڈھل کے مفاہیم سنور جاتے تھے
لوحِ ادراک پہ چلتا تھا قلم جب تیرا
فکر و فن کے سبھی احساس اُبھر جاتے تھے
انکے بارے میں یہی بات لکھی جائے گی
جس جگہ پاؤں ٹھہر جائے ٹھہر جاتے تھے
شاعری میں نے کہاں کی ہے عطا ہے تیری
نت نئے رنگ خیالات میں بھر جاتے تھے
علم وفن میں وہ مہارت انہیں حاصل تھا شکیل
اپنے اشعار سے ہر دل میں اتر جاتے تھے
شکیل رشڑوی، ہندوستان
فون نمبر : 9836993948
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: ستاد محترم مرحوم ظہیر سکندرپوری کو نذرانہ عقیدت, ID: 17865
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 17865 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply