rki.news
تحریر۔فخرالزمان سرحدی ہری پور
پیارے قارئین!سوال پیدا ہوتا ہے کہ سماج کیا ہے؟اس سوال کا جواب آپ مجھ سے کہیں زیادہ پیش کر سکتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق عام فہم انداز میں سماج تمام انسانوں ہی کا مجموعہ ہے۔جن کے رہنے سہنے اور آداب معاشرت اور اطوار زندگی میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔تہذیب و تمدن کے نخل کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔زندگی کے چمنستان میں الفت اور محبت کی فراوانی سے بہار دستک دیتی ہے۔لیکن جب نفرتوں کے آلاؤ دہکتے ہیں تو زندگی کا روپ بدل جاتا ہے۔بقول شاعر:-
قدم قدم مشکلیں٬ڈگر ڈگر مسافتیں
لوگ کیا کہیں گے٬زمانہ کیا کہے گا
وقت کا تقاضا ہے کہ سماج کو بکھرنے سے بچایا جاۓ۔نفرتوں کے چراغ گل ہونے سے ہی محبتوں کی روشن صبح طلوع ہوتی ہے۔الفت کی باد نسیم کے جھونکوں سے حسنِ خیال کی خوشبو مہکتی ہے۔یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سماج کے استحکام سے نسلوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے اور امید و آس کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔زندگی کے دلفریب سماں میں حسنِ اخلاق کی کلیاں مسکراتی ہیں اور تبسم کی مہک سے شبنم کے موتی دل آویز معلوم ہوتے ہیں۔رونقوں سے لپٹی زندگی سوغات بن جاتی ہے۔یہ ہمارا ایمان بھی ہے کہ جو لوگ یقین کی راہ پر چلتے ہیں منزلوں کے سراغ وہی تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔افراد جب باہمی محبت اور اخوت سے سماج میں رہتے ہیں تو دشت و جبل بھی ان کے قدموں کی دھول بن جاتے ہیں۔لیکن سماج میں جب نفرت کی آندھیاں چلتی ہیں تو ترقی کے خواب ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔غرور اور تکبر سے تو انسانیت کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔الفت کی روایات کے فروغ کے لیے معاشرتی ہم آہنگی ضروری ہے۔یہ حقیقت ہے بکھرے موتیوں کو جب ایک دھاگے میں پرو دیا جاتا ہے تو خوبصورت لڑی میں چمکتے آبگینے معلوم ہوتے ہیں۔ہر فرد سماج کا درخشندہ ستارہ ہے۔تاریخ ان لوگوں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے جن کی امنگیں دل و نگاہ میں اجالا پیدا کرتی تھیں اور معمول روایات زندگی کو زندہ رکھنا تھا۔اس حقیقت کو فراموش بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جو لوگ محض خواہشات کی تکمیل کے لیے زندہ رہتے ہیں انہیں خدمت انسانیت کے اصول یاد رکھنے چاہیں۔بقول شاعر:-
آج بھی ایک عمل سے دلوں کو موم کیا جا سکتا ہے
بکھرتے سماج کا عالم دیکھا نہیں جاتا۔آہیں٬آنسو٬اور فریادیں سنی نہیں جا سکتیں۔فقط زبان کی نوک سے مٹھاس کے الفاظ سننے کی تمنا تو ہر فرد کی ہوتی ہے۔گرجتے برستے الفاظ سے تو سماج کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔میٹھے الفاظ تو زندگی کی میراث ہوتے ہیں ان سے روح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔چمنستان کائنات میں انسان کی زندگی تو ایک خوشنما پھول کی مانند ہونی چاہیے۔زندگی کا کیا بھروسہ یہ تو مختصر سی مدت ہے اس لیے خوش اخلاقی٬خندہ پیشانی٬زندہ دلی٬مسکراہٹ اور تبسم گفتگو سے سماج کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ غصہ٬غم٬فکر و رنج٬تنگ نظری اور حسد کی آگ سے سماج کی فصل جل کر خاکستر ہو جاتی ہے۔صحت مند٬تربیت یافتہ اور حسنِ اخلاق کے مالک لوگ ہی سماج کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔سماج تو اس بات کا متقاضی ہوتا ہے بقول شاعر:-
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ٬اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں
آج المیہ ہے سماج کے لوگ تقسیم کے شکار ہیں
تعصب نے میری خاک وطن میں گھر بنایا ہے
یہ منظر نامہ جو اشعار سے سامنے آتا ہے ایک چیلنج سے کم نہیں۔تعلیم ہی وہ قوت ہے جس سے اقوام کی تقدیر بدلتی ہے۔خیالات اور رویوں میں رہنماٸی کرتی ہے۔میری تو اتنی سی التجا ہے بقول شاعر:-
”میرے لفظوں کو ایسا درد دے“
درد دل سے تو انسانیت اور سماج کو قرار ملتا ہے۔جب درد کی متاع ہو اور تعلیم کی روشنی ہو تو سماج کا گوشہ گوشہ محبت اور الفت کے گلوں سے مہکتا ہے۔
تحریر۔فخرالزمان سرحدی
پتہ۔گاؤں ڈنگ٬ڈاک خانہ ریحانہ
تحصیل و ضلع ہری پور
وٹس ایپ۔03123377085
Leave a Reply