Today ePaper
Rahbar e Kisan International

سولر مائیں: خواتین کی طاقت سے روشن مستقبل

Articles , Snippets , / Thursday, January 8th, 2026

rki.news

از: انور ظہیر رہبر، برلن جرمنی

ہامنا سلیمہ نیانگے بھی اُن بیس لاکھ افراد میں شامل ہیں جو نیم خودمختار تنزانیائی جزیرہ نما زنجبار میں بجلی کے کنکشن کے بغیر زندگی گزار رہیں تھیں۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ تیل کے دھواں چھوڑنے والے لیمپ روشن کرتی تھیں، جو ان کے آٹھ بچوں کی تعلیم کے لیے واحد روشنی تھی۔
ہامنا نیانگے کے مطابق روشنی ناکافی تھی جبکہ لیمپ سے اٹھنے والا دھواں آنکھوں میں شدید جلن پیدا کرتا تھا۔
صورتحال اُس وقت بدل گئی جب پڑوسن تاتو اوماری حماد نے سولر پینل اور جدید سولر لیمپ نصب کروادیے۔ بحرِ ہند کے ساحلی علاقے میں موجود تیز دھوپ نے اس کے بعد گھروں کو روشن کرنا شروع کر دیا۔
ہامنا نیانگے کا کہنا ہے کہ اب گھروں میں وافر روشنی دستیاب ہے۔
تاتو اوماری حماد اُن درجنوں خواتین میں شامل ہیں جنہیں “سولر ماماز” کہا جاتا ہے اور جنہیں بیئر فٹ کالج انٹرنیشنل Barefoot College نے زنجبار میں سولر ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کی ہے۔ یہ عالمی غیر منافع بخش ادارہ دیہی علاقوں میں بجلی کی سہولت پہنچانے کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ زنجبار میں اب تک اس پروگرام کے تحت 1,845 گھروں کو سولر روشنی فراہم کی جا چکی ہے۔
پروگرام کے تحت بجلی سے محروم دیہات کی درمیانی عمر کی خواتین کا انتخاب کیا جاتا ہے، جن میں سے بیشتر کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ چھ ماہ پر مشتمل تربیت کے دوران انہیں سولر توانائی کی تنصیب اور دیکھ بھال کی عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد خواتین کم از کم پچاس گھریلو سولر کِٹس کے ساتھ اپنی برادریوں میں واپس آتی ہیں اور مقامی سطح پر یہ نظام نصب کرتی ہیں۔
بیئر فٹ کالج انٹرنیشنل Barefoot College کے مطابق درمیانی عمر کی خواتین اپنی برادریوں میں مضبوط مقام رکھتی ہیں اور عموماً بچوں کی پرورش کے مرحلے سے گزر چکی ہوتی ہیں، جس کے باعث وہ اس ذمہ داری کو بہتر طور پر نبھا سکتی ہیں۔
یہ پروگرام افریقہ میں خواتین کو سولر توانائی کے شعبے میں بااختیار بنانے والے چند نمایاں منصوبوں میں شامل ہے، جن میں سولر سسٹر بھی شامل ہے۔ بیئر فٹ کالج انٹرنیشنل Barefoot College زنجبار کی ڈائریکٹر برینڈا جیوفری نے بتایا کہ „ہم ایسی خواتین کو تربیت دینا چاہتے ہیں جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا آغاز کریں،“۔ زنجبار میں قائم اس ادارے کا کیمپس گزشتہ دس برس سے مقامی خواتین کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ اس سے قبل خواتین کو تربیت کے لیے بھارت بھیجا جاتا تھا، جہاں بیئر فٹ کالج انٹرنیشنل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
انہی خواتین میں سے ایک خزِیجہ غریب عیسیٰ بھی تھیں، جو اس وقت بے روزگار بیوہ تھیں۔ آج وہ اسی ادارے میں چیف ٹرینر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
خزِیجہ عیسیٰ کا کہنا ہے کہ „آج میرے پاس ملازمت ہے، رہائش ہے، جو پہلے میرے پاس نہیں تھی۔“
اس پروگرام کا مرکزی مقصد بہتر صحت کو فروغ دینا ہے۔
سولر توانائی کے بنیادی اور نمایاں کورس کے علاوہ بیئر فٹ کالج انٹرنیشنل خواتین کو درزی، شہد کی مکھیوں کی پرورش اور پائیدار زراعت جیسے شعبوں میں بھی تربیت فراہم کرتا ہے۔ ہر گریجویٹ خاتون کو عمومی صحت سے متعلق بنیادی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ یہ آگاہی اپنے دیہات تک منتقل کر سکیں۔
“سولر ماماز” صحت کے شعبے میں ایک اور اہم کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ وہ نقصان دہ کیروسین لیمپوں کی جگہ محفوظ اور صاف توانائی پر مبنی سولر لائٹس متعارف کرا رہی ہیں۔
یہ کامیاب پروجیکٹ ایک ناخواندہ عورت کو سولر انجینئر بنارہا ہے ۔ یہ تصور نہ صرف بدوی خاتون اور نوبچوں کی ماں رفیعہ کے لیے بلکہ اس کے گرد و نواح کے لوگوں کے لیے بھی ناقابلِ یقین معلوم ہوتا تھا۔ رفیعہ اپنے خاندان کے ساتھ اردن اور عراق کی سرحد کے قریب ایک دور افتادہ صحرائی علاقے میں رہتی ہے، جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی صاف پانی کی سہولت۔
تاہم بیئر فٹ کالج Barefoot College کی ایک منفرد پہل کے تحت رفیعہ کو دنیا بھر سے آنے والی دیگر ماؤں کے ساتھ بھارت بھیجا جارہاہے، جہاں انہیں سولر انجینئر کی تربیت دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ روایتی معاشرہ اس غیر معمولی قدم کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟
بہتر مستقبل کی سفیر کے طور پر رفیعہ کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے، جن میں سب سے بڑی مزاحمت خود اس کے اپنے ماحول اور برادری کے اندر سے سامنے آرہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود “سولر ماماز” منصوبہ بھارتی ادارے بیئر فٹ کالج Barefoot College کی ایک پہل ہے، جو دنیا بھر کے دیہی اور اکثر ناخواندہ کمیونٹی کی خواتین کو سولر انجینئرز کی تربیت دیتا ہے۔ اس تربیت کا مقصد یہ ہے کہ یہ خواتین اپنے دیہات میں سولر توانائی کے نظام نصب، دیکھ بھال اور مرمت کر سکیں، تاکہ پائیدار توانائی تک رسائی ممکن ہو اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ “سولر مائیں” نہ صرف روشنی فراہم کرتی ہیں بلکہ معیارِ زندگی بہتر بناتی ہیں، تعلیم کے مواقع مہیا کرتی ہیں اور روزگار کے ذرائع پیدا کرتی ہیں۔ وہ نقصان دہ کیروسین لیمپوں کی جگہ محفوظ توانائی فراہم کرکے اپنی کمیونٹی کی خود مختار توانائی کی سہولت یقینی بناتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International