Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

سچ کی قیمت تو چکاتے جاءیے

Articles , Snippets , / Wednesday, January 7th, 2026

rki.news

ایک دفعہ ایک شخص حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے کھڑا ہو کے ان کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا رہا تھا. حضرت علی جو بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے بچے تھے، جو باب العلم تھے جو استعارہ شجاعت تھے، حضرت علی وہ جری صحابی تھے جنہیں حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے ہوئے اہل مکہ کی امانتیں واپس کرنے کے لیے اپنے بستر پہ سلا دیا تھا، وہی جری اور بہادر حضرت علی جو فاتح خیبر تھے جو حضور پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے شوہر نامدار اور جنت کے سرداروں حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد محترم وہی حضرت علی جن کے بارے میں حضور اکرم نے فرمایا تھا کہ اگر میں علم کا شہر ہوں تو علی اس شہر کا دروازہ ہے.جی اسی اہل علم و شعور کے سامنے جب ایک شخص کھڑا ہو کے ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا تھا تو حضرت علی جو اہل بصیرت و فیضان تھے نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ہاں جتنی مدح سرائی تم میری کر رہے ہو اس سے تو میں کچھ کم ہی ہوں ہاں جتنی برائیاں تم میرے اندر اپنی باطنی آنکھ سے تلاش رہے ہو اس سے میں کچھ کم ہی برا ہوں.
تو ہم انسان بھی نہ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور کے فارمولے پہ اتنے زیادہ کاربند ہیں کہ اس قلبی و روحانی واردات کو الفاظ کی لڑی میں پرونا انتہائی مشکل ہے.
رب کائنات نے جو پردے رکھ دیے ہیں تو اس کا احسان ہے ورنہ تو ہم نہ ہی ایک دوسرے کو دیکھ پاتے نہ ہی سن پاتے نہ ہی برداشت کر پاتے اور پھر اللہ پاک نے انسان کو اخلاقیات کے تمام اسباق رٹا دیے.
کسی کا حق نہیں مارنا
کسی کا دل نہیں توڑنا
کسی کو برا بھلا نہیں کہنا
کسی کو گالی گلوچ نہیں کرنا
کسی سے جھوٹ نہیں بولنا
کسی کا مال و زر نہیں چرانا
کسی کی جان نہیں لینی
کسی کی آبروریزی نہیں کرنی
ملازمین، خواتین اور جانوروں کے حقوق کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے.
بچوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے احترام کا خاص خیال رکھنا ہے.
ملاوٹ، ناپ تول میں کمی،ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے مکمل اجتناب کرنا ہے.
حقوق ہمسائیگی کی بہت زیادہ تاکید ہے.
اور اللہ پاک نے عبادات میں چھوٹ دے دی مگر حقوق العباد کی سختی سے تاکید کی.
اور ہر دور کے نبیوں، ولیوں، ملنگوں اور درویشوں اور سادھووں نے بھی انسان کی انسان سے محبت پہ زور دیا.
بلھے شاہ کا کلام دیکھیے
مسجد ڈھا دے
مندر ڈھا دے
ڈھینڈا جو کج ڈھا دے
اک بندے دا دل نہ ڈھایں
رب وچ رہیندا ریہندا
کہتے ہیں کہ دنیا جاے امن ہے اور رب نے انسانوں کو ایک دوجے سے محبت کے لیے دنیا میں بھیجا تو پھر یہ جنگ و جدل اور لڑای جھگڑے کیوں ہیں تیری میری کے نہ ختم ہونے والے سیا پے خاص و عام کو جینے کیوں نہیں دیتے ہیں. ہم ہمیشہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کا لبادہ اوڑھا کے کیوں ایک دوسرے کے سامنے پیش کرنے میں لگے رہتے ہیں. یہ کیوں کیوں کی گردان کیوں ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتی. ہر بڑا ہر چھوٹے کو کھانے کی چکر بازیوں میں کیوں مصروف ہے. اور کاروبار حیات جھوٹ پہ
ہی کیوں چلتا ہے. لوگ لوگوں کو دھوکہ کیوں دیتے ہیں لوگ لوگوں کی خوشامد کیوں کرتے ہیں لوگ صرف اپنا ہی مطلب نکالنے کے لیے لوگوں کو استعمال کیوں کرتے ہیں یہ کیوں کیوں کی گردان مجھے جینے نہیں دیتی اور میں بھی تمام لوگوں کی طرح ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پہ مجبور ہو جاتی ہوں.
ابھی تو سیڑھی کے نچلے پاے پہ بیٹھ
مجھ کو پکارتے ہو
ابھی تو راتوں کے رت جگوں میں
مجھے صدا دے کے ہارتے ہو
اگر بلندی پہ پہنچ کے بھی
مجھے پکارا
تو ہے محبت
وگرنہ ہیں ساری
جھوٹی باتیں
نری بناوٹ، نری شرارت
مگر ہماری اور آپ کی بد نصیبی کہ ہم ایسے گونگے، بہرے اور سیاہ دور کے باسی ہیں کہ ہم ایک طرح سے قیدی ہی ہیں.
قید میں ہی ہیں سارے
سانسوں کی روانی میں
درد ناگہانی میں
لہجوں کی ملاوٹ میں
خوف یا بناوٹ میں
جھوٹ کی سجاوٹ میں
کتنے بد نصیب ہیں اور زہر پیالہ پینے والے نے دنیا کو اور اہل دنیا کو بدعا دی تھی کہ یہاں دنیا میں کاروبار جھوٹ ہی چلے گا سچ کے متوالوں کو سچ بولنے کی قیمت چکانی پڑے گی.
سچ سولی چڑھتا یے
سچ پھانسی پاتا ہے
سچ روتا دھوتا ہے
سچ ہی پچھتاتا ہے
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
naureendoctorpunnam@gnail.com


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International