rki.news
پاکستان میں حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر ہمارے نظامِ زندگی کی کمزوریاں اور لاپرواہیاں بے نقاب کر دی ہیں۔ بارش اپنے ساتھ ٹھنڈک اور رحمت لے کر آتی ہے، لیکن شہروں میں یہ رحمت اکثر زحمت میں بدل جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نکاسیٔ آب کا متاثر ہونا ہے، اور اس میں سب سے زیادہ کردار پلاسٹک بیگز ادا کرتے ہیں۔
پلاسٹک کی تھیلیاں بظاہر ایک معمولی سہولت ہیں، لیکن برسات میں یہی سب سے بڑی مصیبت ثابت ہوتی ہیں۔ بارش کے پانی کے ساتھ بہہ کر یہ نالیوں میں پھنس جاتی ہیں، نکاسیٔ آب کا نظام جام کر دیتی ہیں اور چند منٹوں کی بارش گلی کوچوں کو ندی نالوں کا منظر بنا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹریفک جام، گندگی، مچھروں کی افزائش اور ڈینگی، ملیریا، ہیضہ جیسے امراض جنم لیتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹی سی سہولت پورے معاشرے کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔
یہ مسئلہ صرف شہری زندگی تک محدود نہیں۔ پلاسٹک کے تھیلے زمین کی زرخیزی کم کرتے ہیں، برساتی پانی کے ساتھ کھیتوں میں جا کر فصلوں کو متاثر کرتے ہیں اور دریاؤں میں پہنچ کر آبی حیات کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ یوں یہ ہماری صحت، ماحول اور مستقبل سب کے لیے خطرہ ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سختی سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کرے اور عوام کپڑے یا کاغذ کے تھیلے استعمال کرنے کی عادت اپنائیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو ہر سال بارش کے ساتھ یہی منظر دہرایا جائے گا — نالیاں بند، شہر ڈوبے اور ہم بے بس تماشائی۔
پلاسٹک کا استعمال بند کریں اور ماحول کو بچائیں۔
تحریر۔
عتیق الرشید
دوحہ قطر
Leave a Reply