rki.news
تحریر: فخرالزمان سرحدی، ہری پور
ملاقات میں امید کی روشنی
بقول شاعر:
امید کی راہوں میں روشنی کا پیغام لائے
وزیر سے ملاقات نے خواب نئے جگائے
زعفران خان جدون علم دوست اور انسانیت کے قدر دان شخصیت کے مالک ہیں۔ علم کی شمع سے محبت اور تعلیم کے فروغ کے جذبے نے ان کی زندگی کو ممتاز بنایا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالک ہونے کے ناطے، ان کی پہچان علم و انسانیت کے خدمت گزار کے طور پر بھی ہے۔ ان کی زبانی سننے سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم میں ترقی کرنا ان کی زندگی کا مقصد ہے۔
نجی اداروں کے مسائل اور وزیر تعلیم کی رہنمائی
نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل کے لیے ایک نمائندہ وفد، جس میں پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے صوبائی صدر محمد سلیم، ضلعی صدر بشارت نواز عباسی، ضلعی جنرل سیکریٹری خورشید احمد، ضلعی نائب صدر محمد اکبر خان، شہریار خان اور زعفران خان جدون شامل تھے، نے صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان سے ملاقات کی۔
ملاقات کا ماحول خوشگوار اور دوستانہ رہا۔ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش انتظامی و مالی دباؤ، ٹیکسز کا بوجھ، اور دیگر اہم نکات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر تعلیم نے یقین دہانی کرائی کہ نجی اداروں کے مسائل کے حل کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
تعلیم، قومی ضرورت اور نجی اداروں کا کردار
وزیر تعلیم نے تعلیم کے فروغ میں نجی اداروں کے کردار کو سراہا اور کہا:
“تعلیم چونکہ قومی ضرورت ہے، اس کے فروغ میں نجی تعلیمی ادارے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
یہ بات واضح کرتی ہے کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ معاشرتی ترقی اور قوم کی روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔
تعلیم کی تقدیر اور امید
بقول شاعر:
قسمت نوعِ بشر تبدیل ہوتی ہے یہاں
اک مقدس فرض کی تکمیل ہوتی ہے یہاں
وقت کی ضرورت ہے کہ تعلیم کے میدان میں نجی اور سرکاری دونوں اداروں پر بھرپور توجہ دی جائے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان ایک عوامی نمائندے کی حیثیت سے ہر مسئلے کو سمجھتے ہیں اور اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ امید ہے کہ موصوف مثبت اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے عوام کے دل جیتتے رہیں گے۔واضح رہے مسائل کے حل کے لیے ہری پور سے ہی نقطہ آغاز ہوتا ہے۔اور اس کے اثرات پورے صوبے کے تعلیمی اداروں پر مرتب ہوتے ہیں۔
زعفران خان جدون کی یہ ملاقات نہ صرف تعلیمی مسائل کے حل کی جانب ایک قدم ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ علم و تعلیم کی ترقی میں نجی ادارے اور سرکاری ادارے دونوں مل کر معاشرے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
Leave a Reply