Share on WhatsApp

Today ePaper
Rahbar e Kisan International

علم کی شمع سے جو پیار کرتے ہیں

Articles , Snippets , / Tuesday, January 6th, 2026

rki.news

تحریر۔فخرالزمان سرحدی ہری پور
ماہرین کہتے ہیں ”علم کی شمع کوئی معمولی روشنی نہیں ہوتی۔ یہ وہ نور ہے جو صرف آنکھوں کو نہیں، دل و دماغ کو بھی منور کرتا ہے“یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ علم شمع سے جو لوگ پیار کرتے ہیں بقول شاعر:
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ان کے لبوں پر ایک ہی دعا ہوتی ہے۔علم تو ایسی لازوال دولت ہے جس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔یہ چراٸی بھی نہیں جا سکتی۔علم کی شمع سے پیار کرنے سے زندگی میں اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اہل علم
اندھیروں سے گھبراتے نہیں، بلکہ اندھیروں کو راستہ دکھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ زمانے کی تیز ہواؤں میں بھی چراغ کو بجھنے نہیں دیتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ روشنی بجھ گئی تو نسلوں تک تاریکی پھیل جائے گی۔
علم سے محبت رکھنے والے لوگ اکثر خاموش ہوتے ہیں۔ وہ شور نہیں مچاتے، دعوے نہیں کرتے، مگر ان کی موجودگی سے فضا بدل جاتی ہے۔ استاد ہو یا محقق، قلم کار ہو یا طالب علم ۔یہ سب لوگ علم کی شمع کے محافظ ہوتے ہیں۔ وہ اس راز سے بخوبی آگاہ بھی ہوتے ہیں کہ علم محض ڈگری کا نام نہیں، بلکہ شعور، برداشت اور سوال کرنے کی جرأت کا دوسرا نام ہے۔ اسی لیے وہ سوال سے نہیں ڈرتے اور اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں روشنی کے بجائے چمک کو ترجیح دی جاتی ہے۔ علم کی شمع آہستہ آہستہ جلتی ہے، اس میں صبر درکار ہوتا ہے، وقت لگتا ہے۔ مگر ہم فوری نتائج چاہتے ہیں،مقاصد تعلیم سے کوئی شناسائی نہیں ہوتی۔ ایسے میں جو لوگ علم کی شمع سے پیار کرتے ہیں، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔یا کم از کم ایسا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ اصل میں مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اور معماران قوم بھی ہوتے ہیں۔
علم کی شمع سے محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو مسلسل سیکھنے کے عمل میں رکھے۔ علم محمود کی برکات سے استفادہ کرتے ہوۓ زندگی کو مہر درخشاں کی مانند بناۓ۔ جو یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے، دراصل اسی لمحے جہالت کی دہلیز پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ علم سے پیار کرنے والا شخص اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہی اعتراف آگے بڑھنے کا پہلا قدم ہے۔
یہ شمع قربانی مانگتی ہے۔ راتوں کی نیند، دنوں کا سکون، اور کبھی کبھار معاشرتی پذیرائی بھی۔ اس راستے پر چلنے والوں کو اکثر یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ “اس سب کا فائدہ کیا ہے؟” مگر وہ جانتے ہیں کہ علم کا فائدہ نفع و نقصان کے خانوں میں نہیں سمایا جا سکتا۔ یہ تو وہ سرمایہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے اور چھپانے سے گھٹ جاتا ہے۔
قوموں کی زندگی میں علم کی شمع کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ جن معاشروں نے اس شمع کو عزت دی، وہاں سوال زندہ رہے، ادارے مضبوط ہوئے اور انسان کو انسان سمجھا گیا۔ اور جن معاشروں نے علم کو محض نصاب اور امتحان تک محدود کر دیا، وہاں سوچ ساکت ہو گئی، روایت نے تحقیق کا گلا گھونٹ دیا اور تقلید نے تخلیق کی جگہ لے لی۔
آج بھی امید کی کرن باقی ہے، کیونکہ اب بھی کچھ لوگ ہیں جو علم کی شمع سے پیار کرتے ہیں۔ وہ کچے کمروں میں، خاموش لائبریریوں میں، چھوٹے اسکولوں اور گمنام درسگاہوں میں یہ شمع جلائے ہوئے ہیں۔ شاید ان کے نام سرخیوں میں نہ آئیں، مگر ان کی محنت آنے والے کل کی تحریر بن رہی ہے۔
علم کی شمع سے محبت دراصل انسان سے محبت ہے۔ یہ مان لینا کہ ہر ذہن قیمتی ہے اور ہر سوال قابلِ احترام۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر سماج چاہتے ہیں تو ہمیں ان ہاتھوں کی قدر کرنا ہوگی جو چراغ تھامے ہوئے ہیں۔ کیونکہ جب تک یہ شمع روشن ہے، اندھیرا مکمل فتح کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔علم کی روشنی سے تو انقلاب پیدا ہوتا ہے۔اخلاقیات سے آگاہی اور عبادات کا شعور پیدا ہوتا ہے۔مقام زندگی کی اہمیت کا اندازہ بھی تو علم کی روشنی سے ہوتا ہے۔اسی لیے تو ماہرین بھی کہتے ہیں”علم روشنی ہے اور جہالت اندھیرا“


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International