از قلم رومیصاء اخت ابو حنظلہ
عنوان: تخیل قدسی
آج اس کا رواں رواں اللّٰہ کی حمد و ثنا بیان کر رہا تھا۔ دل تھا کہ خوشی سے سنبھلتا نہ تھا۔ واقعی اس کا خوش ہونا بنتا تھا وہ اپنی بچپن کی محبت قدسی کی طرف جس کے لیے وہ تڑپتی تھی پہروں روتی تھی۔ جس کو روبرو ایک بار دیکھنا اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔۔ بہت سے خیالات و احساسات کے ساتھ اپنے محبوب قدسی کی طرف وہ بڑھتی ہی جا رہی تھی سفر کا اختتام ہوتا ہے۔ اپنے محبوب شوہر کی” رومی تمھارا قدسی” کہنے پر تخیلات کی دنیا سے واپس اتی ہے۔۔ اپنے روبرو اس سنہرے گنبد کو پوری اب و تاب سے چمکتے دیکھ کر ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے انسو پلکوں کی باڑ کو توڑتے ہوئے رخساروں کو بھگوتے ہی چلے گئے۔ قدسی کی محبت سے لبریز وجود اقصی کی زمین پر ڈھ سا گیا۔جیسے سالوں کے متلاشی تھکے ہارے مسافر کو منزل مل گئی ہو۔۔ وہ زیر لب قدسی میری محبت میں تم پر قربان یہ جان بھی تم پر نچھاور ہو جائے۔ تو محبت کامل ہو جائے کا ورد کرنے لگی اچانک ایک بے رحم گولی اس کے سینے کو چیرتی ہی چلی گئی اور بہتا ہوا خون اقصی کی سر زمین کو بھگو گیا۔اپنی محبت کامل ہونے پر وہ مسکرائی اور جاں آفریں کے سپرد کر دی ۔۔
Leave a Reply