از قلم: ام حبیبہ اصغر(سیالکوٹ)
مریم گھر آنے کے بعد گم سم سی گھوم رہی تھی۔ دادو نے مریم کی اداسی بھانپتے ہوئے پوچھا، “بیٹا! کیوں اتنی مرجھائی ہوئی ہو؟ کیا ہوا ہے؟ کوئی بات ہے، پریشان لگ رہی ہو۔”
مریم نے جواب دیا، “دادو جان، پڑھنے کے باوجود بھی میرے ٹیسٹ اچھے نہیں ہو رہے ہیں۔” مریم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
دادو نے تسلی دیتے ہوئے کہا، “تو بیٹا، اس میں رونے والی کیا بات ہے؟ کوئی بات نہیں۔ پریشان نہیں ہوا کرو۔”
دادو جان مریم کو گلے لگاتے ہوئے تسلی دے رہی تھیں۔
مریم نے کہا، “آئی لو یو دادو جان! آپ ہمیشہ میری پریشانی بھانپتے ہوئے میرا حوصلہ بڑھاتی ہیں۔”
یہ پیار بھرا لمحہ واقعی دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے اور انسان کی ہر تھکن اور پریشانی وتکلیف کو کم کر کے انسان کو پُرسکون کر دیتا ہے
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: عنوان: پیار بھرا لمحہ, ID: 23551
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 23551 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: عنوان: پیار بھرا لمحہ, ID: 23551
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply