rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
امت مسلمہ نے عید کی خوشیاں منا لی ہیں۔خوشیاں کیوں نہ منائی جائیں کیونکہ اللہ تعالی نےمسلمانوں کو عید کا دن بطور انعام عطا کیا ہے۔عید کا دن لٹے پھٹے فلسطینیوں پر بھی گزرا ہے۔آزاد دنیا کے مسلمان خوشیاں منا رہے ہیں،ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارک بادیں دی جا رہی ہیں،اچھے کپڑے پہنے جا رہے ہیں،اچھے اچھے کھانےپکائے جا رہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ فلسطینی مسلمان عید کی خوشیوں سے محروم ہو چکے ہیں.غزہ کے تباہ شدہ مسلمان عید کی خوشیوں سے محروم ہیں کیونکہ ان سے زندہ رہنے کا حق چھینا جا رہا ہے۔عید کے دن بھی ان پر بمباری ہوتی رہی۔پندرہ ماہ کی خوفناک جنگ کے بعد دو ماہ تقریبا تھوڑا بہت امن رہا،لیکن 18 مارچ کے بعد دوبارہ غزہ پر حملے شروع کر دیے گئے۔عید کےپہلےروزسےلےکرتیسرےدن کے دوران تقریبا 85 افراد بچوں سمیت شہید ہو گئے۔جو زندہ بچےہوئے ہیں ان پر بھی بمباری جاری ہے۔غزہ پہلےسےہی ملبے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔زندہ رہنے والےموت کا سامنا کر رہے ہیں۔پتہ نہیں چلتا کہ کب کس کا نمبرآ جائے اور وہ شہید ہو جائےیا زخمی ہو جائے۔غزہ کی وزارت صحت نے بیان دیا ہے کہ 18 مارچ کے بعد ہونے والی بمباری سے تقریبا ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہو گئے ہیں اور ان میں کم از کم 322 بچے بھی شامل ہیں۔جنگ بندی معاہدہ ہو چکا تھا لیکن اسرائیل نےمعاہدے کے باوجود بھی جنگ شروع کر دی ہے۔7 اکتوبر 2023سے لے کر اب تک 50357(پچاس ہزارتین سو ستاون) افراد شہید ہو چکے ہیں اور114400(ایک لاکھ چودہ ہزارچارسو)افراد زخمی ہیں۔یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔فلسطینی ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں جو ان پر زبردستی مسلط کی گئی ہے۔عالمی طاقتوں نے یہودیوں کی خوشنودی کے لیےفلسطین کا علاقہ ان کو دے دیا تھا۔پورا فلسطین ان کے قبضے میں دےدیاگیا اورایک چھوٹی سی پٹی کو ایک ریاست کا نام دےکر فلسطینیوں کے حوالے کر دیاگیااوروہ پٹی غزہ کہلاتی ہے۔افسوس کہ چھوٹی سی پٹی پر بھی فلسطینیوں کو رہنے نہیں دیا جا رہا،بلکہ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔فلسطینی سسک سسک کر اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔جنگ بندی معاہدے کی وجہ سے فلسطینی پر امید ہو گئے تھے کہ ان کو زندہ رہنے کا حق مل گیا ہےلیکن ان کی امیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں اور پھر ان پر جنگ مسلط کر دی گئی۔عید کے دن ہونے والی بمباری یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ معمولی سی خوشی بھی نہیں منا سکتے۔خوشیاں منانا بھی ان کے بس کی بات نہیں رہی کیونکہ جن کےگھر تباہ ہو چکے ہوں اور خاندان یا رشتہ داروں میں کئی افراد شہید ہو چکے ہوں،وہ کیسے خوشی منا سکتے ہیں؟لاکھوں افراد جو دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے تھے،معاہدہ کی وجہ سے وہ واپس لوٹے لیکن ان کودوبارہ تباہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
غزہ میں قحط بھی شروع ہو چکا ہے۔خوراک،پانی اور دیگر ضروریات کی شدید قلت ہو چکی ہے۔بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔غزہ کے20 لاکھ افراد قحط کاسامنا کررہے ہیں اور لاکھوں افراد بھوک کی وجہ سےمر سکتے ہیں۔حماس نے عالمی برادری کو حرکت میں آنے کے اپیل کی۔حماس نے پریس بیان میں کہا کہ عالمی برادری اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ غزہ بحران کا نوٹس لے۔لاکھوں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔حماس کا کہنا ہے کہ غاصب صیہونی ریاست غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کے خلاف ایک منظم بھوک مسلط کرنے اور بھوک اور پیاس کو جنگی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔خوراک، ادویات،پانی،طبی سہولیات سمیت دیگر ضروری اشیاء کو روک دیا گیا ہے،جس کی وجہ سے غزہ میں خوفناک قحط جاری ہو گیا ہے۔غزہ کے باسیوں کوبمباری کے علاوہ بھوک کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بیکریوں کے لیےآٹا نایاب ہو چکا ہے۔زخمیوں اور بیماروں کےلیے ادویات دستیاب نہیں ہیں اورادویات کی قلت کی وجہ سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔کئی افراد بھوک اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے۔امریکہ کی طرف سے بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔فلسطینی عذاب ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان کو کہا جاتا ہے کہ غزہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کر جائیں۔فلسطینی اپنا علاقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں،کیونکہ دوسرے علاقوں میں بسنا مشکل ہوتا ہے۔
فلسطینی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کوکوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ وہ ان مشکلات سے کیسے نکلیں؟عالمی برادری کے علاوہ امت مسلمہ کی خاموشی بھی تکلیف دہ ہے۔اتنے وسیع قتل عام پر مسلم حکمرانوں کی خاموشی تکلیف دہ ہے۔مسلم حکمران کم از کم جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد ہی کروادیں۔غزہ میں انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے،ورنہ لاکھوں انسان مر سکتے ہیں۔خوراک،پانی،ادویات،کپڑےاور دیگر ضروری اشیاء فوری طور پر فلسطینیوں تک پہنچانی ہوں گی۔کتنی افسوس ناک صورتحال ہے کہ عید کے دن بھی ان کو بمباری کی صورت میں موت کا تحفہ ملا۔امت مسلمہ فوری طور پر مظلوم فلسطینیوں کی حق میں آواز اٹھائےاور فوری طور پر مدد بھی کی جائے تاکہ ظلم کا راستہ روکا جا سکے۔جتنی جلدی ہو سکے جنگ بند کرائی جائےاور جنگ کے بعد بچنے والے افراد کی بحالی پر بھی توجہ دی جائے۔اقوام متحدہ بھی فوری طور پر جنگ بندی کرائے۔غزہ کی بحالی بہت مشکل سے ہوگی کیونکہ ملبہ ہٹا کر نئے مکانات اورعمارتیں تعمیر کرنا بہت ہی مشکل امر ہے۔دوبارہ بحالی کے لیے لمبا عرصہ درکار ہوگا اور وسیع سرمائے کی بھی ضرورت ہوگی۔کاش غزہ یا کہیں بھی ظلم ہو رہا ہے،وہ ظلم ختم ہو جائے اور وہاں کے مظلوم افراد نارمل انسانوں کی طرح اپنے عقیدے کے مطابق خوشیاں منا سکیں۔غزہ کےباسیوں کی یہ عید بھی موت کےسائے میں گزری ہے،امید ہےآنےوالی عید خوشگوار ہوگی۔
Leave a Reply