ہوش لکھوں نہ بے خودی لکھوں
عشق کو کیوں نہ آگہی لکھوں
حاصلِ زندگی اگر پوچھو
دوستوں کی میں دوستی لکھوں
میری تکمیل کے مراحل میں
ہے فقط آپ کی کمی لکھوں
پھول کے یا دھنک کے رنگوں میں
تیرے لہجے کی چاشنی لکھوں
جھوٹ کو جھوٹ کہہ سکوں میں بھی
اور اندھیرے کو تیرگی لکھوں
کوئی اس طرح سے پیارا ہوا
جس کو میں اپنی زندگی لکھوں
کامیابی کا راز لکھوں تو
ایک ہی لفظ عاجزی لکھوں
اتنا لکھوں کہ ہوں بہت خوش میں
اور ہے آنکھ میں نمی لکھوں
میں کہاں فلسفہ کہاں اے یاؔس
جب بھی لکھوں تو شاعری لکھوں
Leave a Reply