ک شخص میری زیست کا عنوان لے گیا
میرے یقین کا ہر اِک سامان لے گیا
کچھ خواب تھے، کہ پھول تھے، تعبیر تھی یہاں
جاتے ہوئے وہ سب مرے پیمان لے گیا
یادوں کے پھول جس میں سجاتی رہی تھی میں
ہاتھوں سے میرے کون یہ گلدان لے گیا
تنکوں کا آشیاں جو بنایا تھا شوق سے
وہ بھی اڑا کے ساتھ میں طوفان لے گیا
وعدہ بھی ساتھ لے گیا جاتے ہوئے وہ آج
ملنے کا آخری تھا جو امکان لے گیا…
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 17103
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 17103 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Boht Khooob۔۔۔ wahhh