اجالا چھائے گا ایک دن اور
چھٹیں گے جتنے بھی ہیں اندھیرے
انھیں ستائیں گی اپنی یادیں
رہیں گے کیسے بھلا اکیلے
وہ انت پا لیں گے اپنی منزل
رہیں گے کب تک کہیں بھٹکتے
کسی نے ہم کو نہیں سکھایا
نہ آئے کوئی ہمیں قرینے
جو حملہ آور ہو اس وطن پر
لڑیں گے ان سے کفن لپیٹے
جدائی آتی نہ درمیاں میں
نہ رت بدلتی نہ تم بدلتے
معین کیا کیا لکھیں کہ ہم نے
جہاں میں دیکھے کئی کرشمے
شاعر چیف سید معین شاہ
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 17439
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 17439 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply