کوئی بھی رنج ہو ہم کو زمانے سے چھپانا ہے
تمہی کہتے تھے ہر صورت میں ہم نے مسکرانا ہے
کسی دن مانگنی ہے کوئی شے اپنے لئے ہم نے
کسی دن ہم نے اے تقدیر ! تجھ کو آزمانا ہے
مقدر میں تو بے تعبیریاں لکھ دی گئیں اپنی
تری آنکھوں سے کوئی خواب پر ہم نے چرانا ہے
یہ میری آنکھ میں جو عکس ہے ، ہمراز ہے میرا
یہ میری روح پر جو داغ ہے کافی پرانا ہے
مرا کردار تم کو مار ڈالے گا حقیقت میں
کہانی کا ہر اک منظر تمہیں جب یاد آنا ہے
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 17443
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 17443 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply