ھوکریں کھانے سے نادان سنبھل جاتا ہے
وقت کی تھپکی سے انسان بہل جاتا ہے
تم بدلنے پہ ہو مائل تو سبق یاد رہے
وقت بدلے تو جہاں سارا بدل جاتا ہے
آنکھ کچھ اور تکے ،دل کے ہیں معیار عجب
دل تو دل ہے جو خزاں میں بھی مچل جاتا ہے
روز اغیار کی محفل میں وہ آتے جاتے
میرے سب خواب وہ آنکھوں میں کچل جاتا ہے
شب گئے سر میں ہمکتا ہوا ہلکا سا خیال
صبح ہوتی ہے تو اشعار میں ڈھل جاتا ہے
خلیᷝــͥــᷝــᷧــͪــᷜـــل وجـᷠــᷧــͩــᷯـͥــᷱــدان
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 17854
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 17854 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply