رغبت مری، رقیب سے فرصت ملے تو دیکھنا
دل کو مرے قریب سے، فرصت ملے تو دیکھنا
ظالم ہی کے قریب ہیں، مانا کہ ہم عجیب ہیں
رہتے ہیں کیوں عجیب سے، فرصت ملے تو دیکھنا
کیسی خلش، کسک ہے کیوں، معدوم وہ چمک ہے کیوں
کیا ہے گلہ نصیب سے، فرصت ملے تو دیکھنا
یہ جو ترے قریب ہیں، کیا واقعی حبیب ہیں
یا ہیں فقط حبیب سے، فرصت ملے تو دیکھنا
راغبؔ کی کیا ہے شاعری، سورج کی نرم روشنی
مہتاب سا ادیب سے، فرصت ملے تو دیکھنا
افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 19103
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 19103 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 19103 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply