شہر بھی لگنے لگا ہے بن
وحشت ہے یا پاگل پن
۔
دل میرا دکھ کی درگاہ
یاد کا ہے اس میں مدفن
۔
مِلنا مِلانا کھیل سا تھا
آڑے آ گئی تھی چلمن
۔
تیرا ہی رستہ دیکھتے ہیں
گھر کی اداسی اور درپن
۔
اُس کو چھوڑ کے میں نہ گیا
یوں تو ہوتی رہی اَن بن
۔
دوست کو میں سمجھا اُس وقت
سانپ نے جب پھیلایا پھن
۔
تیرا وصل نہ پھر بھی مِلا
میں نے لٹایا تن، من ، دھن
۔
چہرہ چہرہ تیرا لگے
حد سے بڑھ گیا پاگل پن
۔
جھوٹی تعریفیں اشعر
سیکھ لے، تُو دنیا کا چلن
اشعر عالم عماد
Leave a Reply