اِک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں مَیں
ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں مَیں
جیسے تم نے تو کچھ کیا ہی نہیں
سارے فتنے کی جَڑ رہا ہوں مَیں
ایک ننّھا دیا محبت کا
آندھیوں سے جھگڑ رہا ہوں مَیں
کوئی چشمہ کبھی تو پھوٹے گا
اپنی ایڑی رگڑ رہا ہوں مَیں
بستے بستے بسا تھا تیرے لیے
رفتہ رفتہ اُجڑ رہا ہوں مَیں
عشق نے مجھ کو توڑ ڈالا ہے
اب کہاں ضد پہ اَڑ رہا ہوں مَیں
دیکھ اب بھی غزل کی چادر پر
فکر و احساس جَڑ رہا ہوں مَیں
زندگانی مِری سنْور جاتی
گر سمجھتا بگڑ رہا ہوں مَیں
آپ اپنا حریف ہوں راغبؔ
آپ اپنے سے لڑ رہا ہوں مَیں
افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب
کتاب: لفظوں میں احساس
Leave a Reply