تجھ سے بہتر تو کبھی بخت ، ہمارے نہیں تھے
پھر بھی ہم وقت کے ہاتھوں کبھی ہارے نہیں تھے
بے سبب قید ہیں جیلوں میں مرے جتنے جواں
جشنِ آزادی پہ بھی اتنے غبارے نہیں تھے
اس لئے رب نے ہمیں سر نِگوں ہونے نہ دیا
غیر کے آگے کبھی ہاتھ پسارے نہیں تھے
اپنی غرقابی کے اساب نہ ڈھونڈو اب تم
ڈوب جانا ہی تھا ، جب بوجھ اتارے نہیں تھے
اپنی قسمت میں کہاں اتنی شرف یابی تھی
مل گئے دور جو ، ہم ایسے کنارے نہیں تھے
ہم میں جُرأت تھی ، کہ حالات کا رخ موڑ دیا
ورنہ کیا تیری طرح ظلم کے مارے نہیں تھے ؟
ضُعف ایسا کہ ، نہ پلکیں بھی اٹھیں تمثیلہ
اتنی عسُرت میں ، تو دن اس نے گزارے نہیں تھے
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply