ملیں ، تو ہجر کے آسیب دل میں پالتا ہے
تو خود کو کیسے عجب وسوسوں میں ڈالتا ہے
تری بقا کی اسی رب سے مانگتا ہوں دعا
بھنور سے کشتیاں ، ساحل پہ جو اچھالتا ہے
وہ بے سبیل پَلوں میں ترا محافظ ہو
عصا سے راستہ جو نیل میں نکالتا ہے
میں اپنے بخت کا سورج نہ بخش دوں تجھ کو ؟
تُو ظلمتوں میں مرے راستے اجالتا ہے
میں رکھ نہ دوں ترے قدموں میں اپنے آہنی عزم ؟
تُو لڑکھڑانے سے پہلے مجھے سنبھالتا ہے
مرے حصار میں ، بے آسرا رہے کیوں کر
جو چٹکیوں میں مسائل کے حل نکالتا ہے
سمیطٓ ، اُس سے تہجد میں مانگے خیر تری
دعاؤں سے جو ، ہر آئی بلا کو ٹالتا ہے
خواجہ ثقلین سمیطٓ
ناگپور انڈیا
Leave a Reply