Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , Snippets , / Thursday, January 30th, 2025

ملیں ، تو ہجر کے آسیب دل میں پالتا ہے
تو خود کو کیسے عجب وسوسوں میں ڈالتا ہے

تری بقا کی اسی رب سے مانگتا ہوں دعا
بھنور سے کشتیاں ، ساحل پہ جو اچھالتا ہے

وہ بے سبیل پَلوں میں ترا محافظ ہو
عصا سے راستہ جو نیل میں نکالتا ہے

میں اپنے بخت کا سورج نہ بخش دوں تجھ کو ؟
تُو ظلمتوں میں مرے راستے اجالتا ہے

میں رکھ نہ دوں ترے قدموں میں اپنے آہنی عزم ؟
تُو لڑکھڑانے سے پہلے مجھے سنبھالتا ہے

مرے حصار میں ، بے آسرا رہے کیوں کر
جو چٹکیوں میں مسائل کے حل نکالتا ہے

سمیطٓ ، اُس سے تہجد میں مانگے خیر تری
دعاؤں سے جو ، ہر آئی بلا کو ٹالتا ہے

خواجہ ثقلین سمیطٓ
ناگپور انڈیا


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International