خیال میں بھی جو صورت تری نظر آئی درونِ قلب ، سکوں کی کمی نظر آئی
خدا ہی جانے مری گُل زمیں پہ کیا گزری جو تار تار قبا پھول کی نظر آئی
کبھی حروف سخاوت کے استعارے تھے ترے سخن میں یہ کیوں مفلسی نظر آئی
سراپا ، اپنا کبھی آئنے میں دیکھا ہے جب پتنگ شاخ میں الجھی ہوئی نظر آئی
صد آفرین ، کہ سو غم چھپے ہیں سینے میں لبوں پہ پھر بھی ہنسی کھیلتی نظر آئی
جو گاؤں میں تھی تری ہم خِرام ، تمثیلہ! تھمی تھمی سی وہ بہتی ندی نظر آئی
تمثیلہ لطیف
Your email address will not be published. Required fields are marked *
Comment *
Name *
Email *
Website
Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.
At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.
© 2025 Rahbar International
Leave a Reply