جو اک ناداں کو ، دانا بولتا ہے ہے مجھ پر جِن کا سایہ ، بولتا ہے
اُسے جب داستانِ غم کہوں تو ‘ مقدر کا ہے لکّھا ‘ بولتا ہے
اسے درخواست ملنے کی کروں تو ‘میں دریا ہوں ، تو صحرا ‘ بولتا ہے
زمانے ، زرد رُت کے آگئے ہیں شجر کا ٹُوٹا پتہ بولتا ہے
ہے میرا عکس بھی اب کرچی کرچی یہ آئینہ شکستہ بولتا ہے
کہاں ہے ہم قدم تیرا ، مسافر ! تری بستی کا رستہ بولتا ہے
کھلونے ، دسترس سے دور کیوں ہیں کسی مفلس کا بیٹا بولتا ہے
*شاعرہ تمثیلہ لطیف
Your email address will not be published. Required fields are marked *
Comment *
Name *
Email *
Website
Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.
At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.
© 2025 Rahbar International
Leave a Reply