تیری مدد سے کامیابی ضَرور ہے
تجھے دیکھ کر دل میں سَرُور ہے
تیرا ہی نام رہا ہے دل میں ہر آں
کہ تو میرے لیئے اِک مَنصور ہے
رَکھا ہے تیرے لِیئے اِحترام کا رشتہ
جیسے تُو ہی میرے لِیئے حَضور ہے
میرا قول بھی وہی فعل بھی وہی
ہمیشہ سے یہی طے شدہ دستور ہے
ہر بات دل کی تجھے بتا ہی دیتا ہوں
ہوتا جب بھی مجھے کوئی ظہور ہے
تجھے جہاں کہیں بھی دیکھتا ہوں
تیرا وجود خوشبوؤں سے معمور ہے
خوبصورتی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں
کہ تیرے چہرے پر اِک اعلیٰ نور ہے
پوچھیں جب کہ بانی محبت کون ہے
کہوں تُو ہی اس کہانی میں مذکور ہے
ہر ادا کو تیری خوب جانا، پہچانا ہے
انہیں اداؤں پر بہت مجھے غرور ہے
معین تجھے دل سے پیار کرنے والا ہے
نہ سوچنا کہ اُس میں کوئی فتور ہے
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply