عجیب حال ہے اے دل، عجب اُداسی ہے
لہو بھی ہے کہ رگ و پے میں اب اُداسی ہے
تجھے پتا ہے کہ کتنا پڑھا ہے میں نے تجھے
تری ہنسی کا یقیناً سبب اُداسی ہے
اُدھر سے تیر چلے تیری مسکراہٹ کے
اِدھر یہ حال کہ پھر جاں بہ لب اُداسی ہے
وہ ایک شوخ جو محور ہے میری غزلوں کا
ہے نام اُس کا محبت، لقب اداسی ہے
نہیں تھی وجہ بھی بے وجہ مسکرانے کی
کوئی سبب نہیں اب بے سبب اداسی ہے
عبث ہیں کوششیں راغبؔ وہ رنگ بھرنے کی
کسی کے دَم سے دمک تھی سو اب اُداسی ہے
افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب
Leave a Reply