Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Tuesday, February 18th, 2025

عجیب حال ہے اے دل، عجب اُداسی ہے
لہو بھی ہے کہ رگ و پے میں اب اُداسی ہے

تجھے پتا ہے کہ کتنا پڑھا ہے میں نے تجھے
تری ہنسی کا یقیناً سبب اُداسی ہے

اُدھر سے تیر چلے تیری مسکراہٹ کے
اِدھر یہ حال کہ پھر جاں بہ لب اُداسی ہے

وہ ایک شوخ جو محور ہے میری غزلوں کا
ہے نام اُس کا محبت، لقب اداسی ہے

نہیں تھی وجہ بھی بے وجہ مسکرانے کی
کوئی سبب نہیں اب بے سبب اداسی ہے

عبث ہیں کوششیں راغبؔ وہ رنگ بھرنے کی
کسی کے دَم سے دمک تھی سو اب اُداسی ہے

افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International